جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 145
145 اسی طرح ایک موقع پر آپ کے بارہ میں حضور نے فرمایا کہ:۔(نورالدین ) میرے ہر ایک امر میں میری اس طرح پیروی کرتے ہیں جیسے نبض کی حرکت تنفس کی حرکت کی پیروی کرتی ہے۔( ترجمہ از عربی عبارت مندرجہ آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ ص ۵۸۶) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت مولوی صاحب کو اپنا سب سے محبوب اور سب سے مخلص اور اعلیٰ درجہ کا صدیق دوست قرار دیا اور ان کی قربانیوں اور ان کے نمونہ کو قابل رشک قرار دیتے ہوئے یہ لکھا کہ:۔وہ اپنے اخلاص، محبت اور وفاداری میں میرے سب مریدوں میں اول نمبر پر ہیں۔(حمامة البشری ترجمه از عربی ص ۱۶ روحانی خزائن جلد۷ ) غیروں کی آراء امیرالمومنین سیدنا حضرت خلیفہ مسیح الاول مسلمہ طور پراپنے علم عرفان اور تقویٰ کے لحاظ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد سب سے بلند اور سب سے ممتاز مقام رکھتے تھے۔علم ومعرفت کے بحر بیکراں اور ولایت و کرامت کی چلتی پھرتی تصویر، آپ کو دیکھ کر بزرگان سلف کے کارناموں کی یاد تازہ ہو جاتی تھی۔وہ لوگ بھی جن کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دعویٰ ماموریت تسلیم کرنے میں عمر بھر تامل رہا۔آپ کو نہایت احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔آپ کی بزرگی اور علمیت و قابلیت کے دل سے قائل تھے۔ایک مرتبہ کسی نے سرسید مرحوم سے خط و کتابت کے دوران پوچھا کہ جاہل علم پڑھ کر عالم بنتا ہے اور عالم ترقی کر کے حکیم ہو جاتا ہے حکیم ترقی کرتے کرتے صوفی بن جاتا ہے مگر جب صوفی ترقی کرتا ہے تو کیا بنتا ہے؟ سرسید مرحوم نے جواب دیا کہ جب صوفی ترقی کرتا ہے تو نورالدین بنتا ہے۔مولانا عبید اللہ صاحب سندھی جو ولی اللہ فلسفہ کے داعی تھے محض حضرت خلیفہ اول سے ملاقات و استفادہ کے لئے قادیان تشریف لائے تھے اور حضور کے اسلوب تفسیر سے بہت متاثر ہوئے۔چنانچہ ان کی تفسیر میں اس کی گہری جھلک نظر آئی ہے اور احمدیت کے خیالات و افکار کا عکس بھی ان کی تفسیر سے دکھائی دیتا ہے۔ڈاکٹر محمد اقبال صاحب سے قانون شریعت کے مختلف مسائل سے راہنمائی کے سلسلہ میں خط و کتابت جاری رہتی تھی۔ایک مرتبہ ان کو اپنی ایک بیوی کے بارے میں شبہ ہوا کہ چونکہ وہ اسے طلاق دینے کا ارادہ کر چکے تھے مبادا شرعاً طلاق ہو چکی ہو۔جس پر انہوں نے مرزا جلال الدین صاحب کو حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں بھیجا کہ مسئلہ پوچھ آؤ۔آپ نے فرمایا کہ طلاق نہیں ہوئی لیکن اگر آپ کے دل میں کوئی شبہ اور وسوسہ ہو تو دوبارہ نکاح کر لیجئے۔چنانچہ ڈاکٹر اقبال نے اس فتویٰ کے مطابق دوبارہ اس خاتون سے نکاح پڑھوالیا۔