جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 146
146 مولا نا محمد علی جوہر، نواب وقار الملک، مولانا ابوالکلام آزاد، مولوی ظفر علی خان ، علامہ شبلی نعمانی، نواب محسن الملک ، مولوی عبدالحق صاحب حقانی مفسر دہلوی، خواجہ حسن نظامی اور دوسرے مسلمہ مسلمان لیڈر آپ کی عظمت شان اور جلالت مرتبت اور تبحر علمی کے دل سے قائل تھے اور اسلامی رسائل میں آپ کی دینی رائے کو بڑی وقعت دی جاتی تھی۔ڈاکٹر عبدالحمید صاحب چغتائی لاہور کی چشم دید شہادت ہے کہ حضرت ایک مرتبہ چیف کورٹ پنجاب میں کسی گواہی کے سلسلہ میں تشریف لائے جب حضور کمرہ عدالت میں داخل ہوئے تو تین جج تعظیم کے لئے کھڑے ہو گئے۔آپ کے علمی فیض کا حلقہ بہت وسیع تھا اور آپ کے شاگردوں کی تعداد جنہوں نے آپ سے علوم پڑھے بیشمار ہے۔علوم دینیہ کے علاوہ آپ کا شمار چوٹی کے طبیبوں میں ہوتا تھا اور پورے ملک میں آپ کی دھوم مچی ہوئی تھی۔یہ بھی ایک روایت ہے کہ کوئی انگلستان میں بغرض علاج گیا تو ڈاکٹروں نے مشورہ دیا کہ ہندوستان میں جا کر مولوی حکیم نورالدین صاحب سے علاج کروائیں۔ڈاکٹر عبدالحمید صاحب چغتائی (لاہور) کی روایت ہے کہ آپ کبھی لاہور تشریف لاتے تو آپ کے گرد ہند و مسلمان اور سکھ دور ونزدیک سے ہجوم کر کے آ جاتے بازار میں چلتے تو لوگ حضرت کے پاؤں پکڑ لیتے اور اپنے مریضوں کے لئے دوا طلب کرتے۔حضرت حکیم صاحب قبلہ نے ہزاروں روپیہ کی دوائیں اپنی جیب سے خرچ کر کے ضرورت مندوں میں مفت تقسیم کر دیں۔حضرت کے دل میں خدمت خلق کا بے پناہ جذبہ تھا۔نیز لکھتے ہیں ”حضرت حکیم صاحب ۱۹۱۳ء میں بیمار ہوئے تو جناب مسیح الملک حکیم حافظ اجمل خان صاحب دہلوی، حکیم عبد العزیز خان صاحب لکھنوی، حکیم غلام حسین حسنین صاحب کشوری خود عیادت کے لئے قادیان تشریف لائے۔حکیم فقیر محمد صاحب چشتی، حکیم مولوی سلیم اللہ خان صاحب حکیم سید عالم شاہ صاحب حکیم مفتی محمد انور صاحب ہاشمی، حکیم فیروز الدین صاحب وغیرہ وغیرہ حضور کا نام بڑی عزت و احترام سے لیا کرتے تھے اور حضرت کو حضرت استاذی المکرم کہا کرتے تھے۔عبدالمجید صاحب سالک اپنی کتاب "مسلم ثقافت ہندوستان میں“ کے صفحہ ۳۰۰ ،۳۰۱ پر لکھتے ہیں۔”آپ کی حذاقت کا شہرہ نزدیک و دور پھیل گیا اور آپ ہندوستان کے چند منتخب اطباء میں شمار ہونے لگے۔آپ بھیرہ چھوڑ کر قادیان چلے گئے اور بقیہ عمر درس و تدریس علاج معالجہ اور پرورش غرباء میں بسر کر دی۔آپ آل انڈیا ویدک اینڈ یونانی طبی کانفرنس کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے اعزازی ممبر اور رکن خصوصی بھی تھے۔( بحوالہ تاریخ احمدیت جلد سوم نیا ایڈیشن ص ۶۳۴، ۶۳۵)