جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 144 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 144

144 حضرت خلیفہ اول کا مقام حضرت مولانا حکیم نور الدین صاحب خلیفہ المسیح الاول بہت بزرگ انسان تھے۔آپ کو سب سے پہلے بیعت کرنے اور پھر ہر حالت میں حضرت مسیح موعود کا ساتھ دینے کی توفیق ملی۔خدا اور رسول کی محبت کے علاوہ انہیں قرآن مجید سے خاص عشق تھا، بیماری ہو یا صحت ہو، ہر حالت میں قرآن مجید کا ذکر اور اس کا درس ہی ان کی روح کی غذا تھی۔حضرت مسیح موعود کے ہر حکم کی پوری اطاعت کرتے تھے۔جب حضور کی طرف سے کوئی بلاوا آتا تو جس حالت میں بھی ہوتے فوراً بھاگ کر حضور کی خدمت میں پہنچنے کی کوشش کرتے۔حتی کہ جوتی سنبھالنے اور پگڑی پہنے کا بھی انہیں خیال نہ رہتا۔ایک دفعہ حضور دہلی میں تھے وہاں سے حضور کا پیغام حضرت مولوی صاحب کو قادیان میں ملا کہ آپ فوراد بلی آجائیں۔حضرت مولوی صاحب اس وقت اپنے مطب میں بیٹھے تھے۔جب پیغام ملا تو وہیں سے اور اسی حالت میں روانہ ہو گئے۔نہ سفر کیلئے کوئی سامان لیا اور نہ کرایہ کا ہی انتظام کیا۔کسی نے عرض کیا کہ حضرت مسیح موعود کا یہ مطلب تو نہیں کہ آپ گھر جا کر سامان بھی نہ لیں اور اتنے لمبے سفر پر خالی ہاتھ روانہ ہوجائیں۔حضرت مولوی صاحب نے فرمایا۔جب حضور کا حکم ہے کہ فوراً آ جاؤ تو میں ایک منٹ بھی یہاں ٹھہر نا گناہ سمجھتا ہوں۔خدا تعالی کی قدرت دیکھو کہ جب آپ گاڑی پر روانہ ہونے کے لئے بٹالہ کے ریلوے سٹیشن پر پہنچے تو ایک امیر آدمی کی بیوی بیمار تھی جس کے علاج کے لئے اسٹیشن پر حاضر ہو گیا اس نے دہلی تک کا ٹکٹ بھی خرید دیا اور ایک معقول رقم بھی آپ کی خدمت میں پیش کر دی۔اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حضرت مولوی صاحب کا حضور کی اطاعت کرنے کا اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ اور توکل کرنے میں کیسا اعلیٰ درجہ کا نمونہ تھا۔آپ کی انہی خوبیوں کی وجہ سے حضرت مسیح موعود نے آپ کی تعریف میں یہ فارسی شعر کہا کہ خوش بودے اگر هر یک ز اُمت نوردیں بودے ہمیں بودے اگر ہر دل پُر از نور یقیں بودے اس شعر کا مطلب یہ ہے کہ کیا ہی اچھا ہو اگر میری قوم اور جماعت کا ہر فردنور دین بن جائے۔مگر یہ بھی ہوسکتا ہے جبکہ ہر ایک دل نور دین کی طرح یقین کے نور سے بھر جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب صدر انجمن احمدیہ کا قیام فرمایا تو حضرت مولوی صاحب کو اس کا صدر مقرر فرمایا اور ساتھ یہ ارشاد فرمایا کہ:۔مولوی صاحب کی ایک رائے انجمن کی سورائے کے برابر جھنی چاہئے۔