جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 96
96 اپنی صداقت کے لئے پیش کیا ہے تو میں ایک ہزار روپیہ اس شخص کو انعام دوں گا۔چنانچہ حضرت بانی سلسلہ اپنی کتاب نورالحق حصہ دوم میں یہ چیلنج لکھتے ہیں کہ :۔" کیا تم اس کی نظیر پہلے زمانوں میں سے کسی زمانہ میں پیش کر سکتے ہو کیا تم کسی کتاب میں پڑھتے ہو کہ کسی شخص نے دعویٰ کیا کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوں اور پھر اس زمانہ میں رمضان میں چاند اور سورج کا گرہن ہوا۔جیسا کہ اب تم نے دیکھا۔پس اگر پہنچانتے ہوتو بیان کرو۔اور تمہیں ہزار روپے انعام ملے گا۔اگر ایسا کر دکھاؤ۔پس ثابت کرو اور یہ انعام لے لو۔اور میں خدا تعالے کو اپنے اس عہد پر گواہ ٹھہراتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو۔اور خدا سب گواہوں سے بہتر ہے۔اور اگر تم ثابت نہ کرسکو اور ہرگز ثابت نہ کرسکو گے تو اس آگ سے ڈرو جو مفسدوں کے لئے طیار کی گئی ہے۔“ نورالحق حصہ دوم۔روحانی خزائن جلد نمبر ۸ ص۲۱۲) ” اور ہمیں اس بات سے بحث نہیں کہ ان تاریخوں میں کسوف و خسوف رمضان کے مہینہ میں ابتدائے دنیا سے آج تک کتنی مرتبہ واقع ہوا ہے۔ہمارامد عا صرف اس قدر ہے کہ جب سے نسل انسان دنیا میں آئی ہے نشان کے طور پر یہ خسوف صرف میرے زمانہ کے لئے واقع ہوا ہے اور مجھ سے پہلے کسی کو یہ اتفاق نصیب نہیں ہوا کہ ایک طرف تو اس نے مہدی موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہو اور دوسری طرف اس کے دعوے کے بعد رمضان کے مہینہ میں مقرر کردہ تاریخوں میں خسوف کسوف بھی واقع ہو گیا ہو اور اس نے اس کسوف خسوف کو اپنے لئے ایک نشان ٹھہرایا ہو۔اور دار قطنی کی حدیث میں یہ تو کہیں نہیں ہے کہ پہلے کبھی کسوف خسوف نہیں ہوا۔ہاں یہ تصریح سے الفاظ موجود ہیں کہ نشان کے طور پر یہ پہلے بھی کسوف خسوف نہیں ہوا کیونکہ لَمْ تَكُونَا کا لفظ مونث کے صیغہ کے ساتھ دار قطنی میں ہے جس کے یہ معنے ہیں کہ ایسا نشان کبھی ظہور میں نہیں آیا۔اور اگر یہ مطلب ہوتا کہ کہ کسوف خسوف سے پہلے کبھی ظہور میں نہیں آیا تو لفظ لَمْ يَكُونَا۔مذکر کے صیغہ سے چاہئے تھا نہ کہ لَمُ تَكُونَا کہ جو مؤنث کا صیغہ ہے جس سے صریح معلوم ہوا ہے کہ اس سے مراد آیتین ہے یعنی دو نشان کیونکہ یہ مونث کا صیغہ ہے۔پس جو شخص یہ خیال کرتا ہے کہ پہلے بھی کئی دفعہ خسوف کسوف ہو چکا ہے اس کے ذمہ یہ بار ثبوت ہے کہ وہ ایسے مدعی مہدویت کا پتہ دے جس نے اس کسوف خسوف کو اپنے لئے نشان ٹھہرایا ہو اور یہ ثبوت یقینی اور قطعی چاہئے اور یہ صرف اس صورت میں ہوگا کہ ایسے مدعی کی کوئی کتاب پیش کی جائے جس نے مہدی معہود ہونے کا دعویٰ کیا ہو اور نیز یہ لکھا ہو کہ خسوف کسوف جو رمضان میں دار قطنی کی مقرر کردہ تاریخ کے موافق ہوا ہے وہ میری سچائی کا نشان ہے۔غرض صرف خسوف کسوف خواہ ہزاروں مرتبہ ہوا ہو اس سے بحث نہیں۔نشان کے طور پر ایک مدعی کے وقت صرف ایک دفعہ ہوا ہے اور حدیث نے ایک مدعی مہدویت کے وقت میں اپنے مضمون کا وقوع ظاہر کر کے اپنی صحت اور سچائی کو ثابت کر دیا۔(روحانی خزائن جلد ۲۳- چشمه معرفت ص ۲۲۹ ۲۳۰ حاشیه )