جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 95 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 95

95 نواب صاحب آف بہاول پور کے پیر اور جنوبی پنجاب کے مشہور بزرگ حضرت خواجہ غلام فرید صاحب آف چاچڑاں شریف نے بھی فرمایا کہ حدیث نبوی کے مطابق یہ گرہن واقع ہو چکا ہے۔( اشارات فریدی جلد ۳ ص ۷۱ ) پہلے ذکر کیا جا چکا ہے کہ حافظ محمد لکھو کے والے نے اپنی کتاب ”احوال الآخرۃ میں اس پیشگوئی کا ذکر کیا تھا۔جب یہ گرہن ہو چکے تو ۱۸۹۹ء میں احوال الآخرہ کے نام سے ایک اور کتاب شائع ہوئی۔جس میں چاند سورج گرہن واقع ہونے کا بڑے زور وشور سے ذکر کیا گیا۔اس کے دو پنجابی اشعار یہ ہیں: ؎ چن سورج نوں گرہن لگے گا وچہ رمضان مہینے زمینے ظاہر جدوں محمد مہدی ہوسی و چه تیراں سوتے یاراں سن وچ ایہہ بھی ہو بھی ہو گئی پوری گرہن لگا چن سورج تائیں جیونکر امر حضوری احوال الآخرة ص۰ ۵ مصنفہ مولوی دلپذ یر صاحب بھیروی) حضرت امام مہدی علیہ السلام چونکہ موعود اقوام عالم تھے۔اور ۱۸۹۴ء میں ظاہر ہونے والا چاند اور سورج گرہن کا نشان تمام دنیا سے نظر نہیں آسکتا تھا اور یہ بھی ضروری تھا کہ گرہن دنیا کے دونوں حصوں میں بسنے والے لوگ دیکھ سکیں تا کہ بعد میں کسی حصہ کے لوگوں کو اعتراض کا موقع نہ ملتا اس لئے اللہ تعالیٰ کی تقدیر نے یہ انتظام فرما دیا کہ چونکہ امام مہدی حضرت بانی سلسلہ احمد یہ صاحب قادیانی دنیا کے مشرقی خطہ میں موجود تھے اس لئے پہلے یہ نشان ۱۸۹۴ء میں دنیا کے مشرقی علاقوں میں نظر آیا ار پھر ۱۸۹۵ء میں یہ گرہن ان تمام شرائط کے ساتھ دوسری مرتبہ دنیا کے مغربی ملکوں یعنی یورپ اور امریکہ میں ظاہر ہوئے۔عیسوی کیلنڈر کے مطابق یہ تاریخیں مندرجہ ذیل تھیں:۔چاند گرہن سورج گرہن ۱۱/ مارچ ۱۸۹۵ء بمطابق ۱۳ ماه رمضان ۱۳۱۲ ء ھ ۲۶ مارچ ۱۸۹۵ء بمطابق ۲۸ ماه رمضان ۱۳۱۲ء ان گر ہنوں کے وقت قادیان میں رمضان کی ۱۳؎ اور ۲۸ تاریخیں تھیں جو حدیث میں بیان ہوئی ہیں۔اس دوسری دفعہ کے گرہن کا اشارہ بھی ایک حدیث میں موجود ہے۔حضور ﷺ نے فرمایا :۔إِنَّ الشَّمْسَ تَنْكَسِفُ مَرَّتَيْنِ فِي رَمَضَانَ۔(مختصر تذکرہ قرطبی ص ۱۲۸) یعنی رمضان میں دو دفعہ سورج گرہن ہوگا۔حضرت بانی سلسلہ نے اس نشان کا تذکرہ کرتے ہوئے یہ چیلنج دیا کہ اگر کوئی ثابت کر دے کہ اس سے قبل کسی مہدی ہونے کے مدعی کے زمانہ میں یہ گرہن مقررہ تاریخوں میں ہوئے ہیں اور اس نے ان نشانوں کو