جلسہ سالانہ — Page 32
32 تک دل فروتنی کا سجدہ نہ کرے صرف ظاہری سجدوں پر امید رکھنا طمع خام ہے۔جیسا کہ قربانیوں کا خون اور گوشت خدا تک نہیں پہنچتا۔صرف تقویٰ پہنچتی ہے۔ایسا ہی جسمانی رکوع وسجود بھی بیچ ہے جب تک دل کا رکوع و سجود و قیام نہ ہو۔دل کا قیام یہ ہے کہ اس کے حکموں پر قائم ہو اور رکوع یہ کہ اس کی طرف جھکے اور سجود یہ کہ اس کے لئے اپنے وجود سے دست بردار ہو۔سو افسوس ہزار افسوس کہ ان باتوں کا کچھ بھی اثر میں ان میں نہیں دیکھتا۔مگر دعا کرتا ہوں اور جب تک مجھ میں دم زندگی ہے کئے جاؤں گا۔اور دعا یہی ہے کہ خدا تعالے میری اس جماعت کے دلوں کو پاک کرے اور اپنی رحمت کا ہاتھ لمبا کر کے ان کے دل اپنی طرف پھیر دے۔اور تمام شرارتیں اور کینے ان کے دلوں سے اُٹھا دے اور باہمی سچی محبت عطا کر دے اور میں یقین رکھتا ہوں کہ یہ دُعا کسی وقت قبول ہوگی اور خدا میری دعاؤں کو ضائع نہیں کرے گا۔ہاں میں یہ بھی دعا کرتا ہوں کہ اگر کوئی شخص میری جماعت میں خدا تعالیٰ کے علم اور ارادہ میں بد بخت از لی ہے جس کے لئے یہ مقدر ہی نہیں کہ تیچی پاکیزگی اور خدا ترسی اس کو حاصل ہو تو اس کو اے قادر خدا میری طرف سے بھی منحرف کر دے جیسا کہ وہ تیری طرف سے منحرف ہے اور اس کی جگہ کوئی اور لا جس کا دل نرم اور جس کی جان میں تیری طلب ہو۔اب میری یہ حالت ہے کہ بیعت کرنے والے سے میں ایسا ڈرتا ہوں جیسا کہ کوئی شیر سے۔اسی وجہ سے کہ میں نہیں چاہتا کہ دنیا کا کیڑا رہ کر میرے ساتھ پیوند کرے۔پس التواء جلسہ کا ایک یہ سبب ہے جو میں نے بیان کیا۔دوسرے یہ کہ ابھی ہمارے سامان نہایت نا تمام ہیں۔اور صادق جانفشاں بہت کم اور بہت سے کام ہمارے اشاعت کتب کے متعلق قلت مخلصوں کے سبب سے باقی پڑے ہیں۔پھر ایسی صورت میں جلسہ کا اتنا بڑا اہتمام جو صد ہا آدمی خاص اور عام کئی دن آ کر قیام پذیر ہیں۔اور