جلسہ سالانہ — Page 33
33 جلسہ سابقہ کی طرح بعض دُور دراز کے غریب مسافروں کو اپنی طرف سے زاد راہ دیا جاوے۔اور کماحقہ کئی روز صد ہا آدمیوں کی مہمانداری کی جاوے۔اور دوسرے لوازم چار پائی وغیرہ کا صدہا لوگوں کے لئے بندو بست کیا جائے اور ان کے فروکش ہونے کے لئے کافی مکانات بنائے جائیں۔اتنی توفیق ابھی ہم میں نہیں اور نہ ہمارے مخلص دوستوں میں۔اور یہ بات ظاہر ہے کہ ان تمام سامانوں کو درست کرنا ہزار ہا روپیہ کا خرچ چاہتا ہے۔اور اگر قرضہ وغیرہ پر اس کا انتظام بھی کیا جائے تو بڑے سخت گناہ کی بات ہے کہ جو ضروریات دین پیش آرہی ہیں وہ تو نظر انداز رہیں اور ایسے اخراجات جو کسی کو یاد بھی نہیں رہتے اپنے ذمہ ڈال کر ایک رقم کثیر قرضہ کی خواہ نخواہ اپنے نفس پر ڈال لی جائے۔ابھی باوجود نہ ہونے کسی جلسہ کے مہمانداری کا سلسلہ ایسا ترقی پر ہے کہ ایک برس سے یہ حالت ہو رہی ہے کہ کبھی تھیں تمہیں چالیس چالیس اور کبھی سوتک مہمانوں کی موجودہ میزان کی ہر روزہ نوبت پہنچ جاتی ہے۔جن میں اکثر ایسے غرباء فقراء دُور دراز ملکوں کے ہوتے ہیں جو جاتے وقت ان کو زاد راہ دے کر رخصت کرنا پڑتا ہے۔برابر یہ سلسلہ ہر روز لگا ہوا ہے۔اور اس کے اہتمام میں مکر می مولوی حکیم نورالدین صاحب بدل و جان کوشش کر رہے ہیں۔اکثر دُور کے مسافروں کو اپنے پاس سے زاد راہ دیتے ہیں۔چنانچہ بعض کو قریب تمہیں تھیں یا چالیس چالیس روپیہ کے دینے کا اتفاق ہوا ہے۔اور دو دو چار چار تو معمول ہے اور نہ صرف یہی اخراجات بلکہ مہمانداری کے اخراجات کے متعلق قریب تین چارسوروپیہ کے انہوں نے اپنی ذاتی جوانمردی اور کریم النفسی سے علاوہ امدادات سابقہ کے ان ایام میں دئے ہیں اور نیز طبع کتب کے اکثر اخراجات انہوں نے اپنے ذمہ کر لئے کیونکہ کتابوں کے طبع کا سلسلہ بھی برابر جاری ہے۔گو بوجہ ایسے لابدی مصارف کے اپنے مطبع کا اب تک انتظام نہیں ہو سکا۔لیکن مولوی صاحب