جلسہ سالانہ — Page 31
31 بچے دل سے دینی احکام اپنے سر پر نہیں اُٹھا لیتے۔اور رسول کریم کے پاک جوئے کے نیچے صدق دل سے اپنی گردنیں نہیں دیتے اور راستبازی کو اختیار نہیں کرتے اور فاسقانہ عادتوں سے بیزار ہونا نہیں چاہتے اور ٹھٹھے کی مجالس کو نہیں چھوڑتے اور ناپاکی کے خیالوں کو ترک نہیں کرتے اور انسانیت اور تہذیب اور صبر اور نرمی کا جامہ نہیں پہنتے بلکہ غریبوں کو ستاتے اور عاجزوں کو دھکے دیتے اور اکڑ کر بازاروں میں چلتے اور تکبر سے گرسیوں پر بیٹھتے ہیں۔اور اپنے تئیں بڑا سمجھتے ہیں۔اور کوئی بڑا نہیں مگر وہی جو اپنے تئیں چھوٹا خیال کرے۔مبارک وہ لوگ جو اپنے تئیں سب سے زیادہ ذلیل اور چھوٹا سمجھتے ہیں اور شرم سے بات کرتے ہیں اور غریبوں اور مسکینوں کی عزت کرتے اور عاجزوں کو تعظیم سے پیش آتے اور کبھی شرارت اور تکبر کی وجہ سے ٹھٹھا نہیں کرتے اور اپنے رب کریم کو یا درکھتے ہیں۔اور زمین پر غریبی سے چلتے ہیں۔سو میں بار بار کہتا ہوں کہ ایسے ہی لوگ ہیں جن کے لئے نجات تیار کی گئی ہے۔جو شخص شرارت اور تکبر اور خود پسندی اور غرور اور دنیا پرستی اور لالچ اور بدکاری کی دوزخ سے اسی جہان میں باہر نہیں۔وہ اس جہان میں کبھی باہر نہیں ہوگا۔میں کیا کروں اور کہاں سے ایسے الفاظ لاؤں جو اس گروہ کے دلوں پر کارگر ہوں۔۔خدایا مجھے ایسے لفظ عطا فرما اور ایسی تقریریں الہام کر جوان دلوں پر اپنا ٹو ر ڈالیں اور اپنی تریاقی خاصیت سے اُن کی زہر کو دور کر دیں۔میری جان اس شوق سے تڑپ رہی ہے کہ کبھی وہ بھی دن ہو کہ اپنی جماعت میں بکثرت ایسے لوگ دیکھوں جنہوں نے درحقیقت جُھوٹ چھوڑ دیا اور ایک سچا عہد اپنے خدا سے کر لیا کہ وہ ہر یک شر سے اپنے تئیں بچائیں گے اور تکبر سے جو تمام شرارتوں کی جڑ ہے بالکل دُور جاپڑیں گے اور اپنے رب سے ڈرتے رہینگے۔مگر ابھی تک بجز خاص چند آدمیوں کے ایسی شکلیں مجھے نظر نہیں آتیں۔ہاں نماز پڑھتے ہیں مگر نہیں جانتے کہ نماز کیا شئے ہے۔جب