جدید علم کلام کے عالمی اثرات

by Other Authors

Page 87 of 156

جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 87

کے خیر ہے کہ آفتاب اسلام شاید مشرق سے ہی طلوع کرے جہاں نوجوان اہم اسلامیہ بحر ہند کے ساحلوں پر آباد ہیں اور اس کے بھاٹا میں کودنے پر آمادہ ہیں اور دنیائے اسلام کی قیادت کے لئے تیار کھڑی ہیں۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے اپنے بہنوئی مسیحیت و مہدویت کے آغاز میں ہی اعلان فرما دیا تھا کہ یہ وہی صبح صادق ظہور پذیر ہوگئی ہے جس کی پاک نوشتوں میں پہلے سے خبر تھی۔۔۔۔سوش کر کرو اور خوشی سے اچھلو جو آج تمہاری تازگی کا دن آگیا۔خدا تعالیٰ اپنے دین کے باغ کو جس کی راستبازوں کے خونوں سے آبپاشی ہوئی تھی کبھی ضائع کرنا نہیں چاہتا " (ازالہ اوہام حصہ اول صفحه ۳ - ۴) مولانا محمد موسی صاحب مدرس جامعہ اشرفیہ لاہور بر صغیر کے ماہر فلکیات ہیں آپ اپنی کتاب فلکیات جدیدہ (حصہ اول صفحہ ۲۱۶) میں بالوضاحت لکھتے ہیں کہ " خسوف ایام استقبال یعنی ۱۳-۱۴-۵ تاریخوں کے علاوہ نا ممکن ہے۔(ناشر کتاب ادارہ تصنیف و ادب جامعہ اشرفیه فیروز پور روڈ لاہور ) حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے ۱۳۱۱ھ / ۱۸۹۴ء میں جبکہ گرہن کا آفاقی نشان رونما ہوا بالکل یہی موقف اختیار فرمایا تھا، (نورالحق حقی دوم مولفه (۲۱۸۹۴) پس مولانا محمد موسی صاحب کا یہ بیان احمد می علم کلام کی حقانیت پر ایک واضح شہادت ہے۔مولانا اللہ یار صاحب چکڑالہ ضلع میانوالی فرماتے ہیں :۔کشف و الہام وحی باطنی ہے اور کمالات نبوت سے ہے اور نائب و خلیفہ نبوت ہے۔انقطاع نبوت اور انقطاعی وحی