جدید علم کلام کے عالمی اثرات

by Other Authors

Page 77 of 156

جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 77

کا فرض تھا کہ یا تو اسلامی سلطنت کی حفاظت میں جانیں لڑتے یا اس میں ناکام ہونے کے بعد یہاں سے ہجرت کر جاتے لیکن جب وہ مغلوب ہو گئے ، انگریزی حکومت قائم ہو چکی اور مسلمانوں نے اپنے پرسنل کار پر قتل کرنے کی آزادی کے ساتھ یہاں رہنا قبول کر لیا تواب یہ ملک دارالحرب نہیں رہا۔اس لیے کہ یہاں تمام اسلامی قوانین منسوخ نہیں کئے گئے ہیں نہ مسلمانوں کو سب احکام شریعت کے اتباع سے رو کا جاتا ہے۔" (سود حصہ اول صفحہ ، حاشیہ - شائع کردہ مکتبہ جماعت اسلامی پاکستان لاہور) نیز لکھا :۔" وہ وہ شرائط یہاں ابھی پورے نہیں ہوئے ہیں جن کے ماتحت اسلام نے جہاد بالسیف کی اجازت دی ہے۔جہاد بالسیف کے لیئے دو شرطیں ضروری ہیں۔ایک یہ کہ و با اختیار امیر کی قیادت میں ہو، کسی دوسرے نظام قاہر وسلط کے اندر رہتے ہوئے جہاں کسی یا اختیار میر کا وجود نا ممکن ہے قتال کرنا بدامنی اور فساد ہے جو جائز نہیں۔چنانچہ یہی وجہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قتال کا اعلان ہجرت کے بعد فرمایا۔دوسرے یہ کہ جو لوگ جہاد بالسیف کے لیے اُٹھیں وہ خود شائبہ فساد و ظلم سے پاک ہو چکے ہوں۔۔۔۔اس طرح کی کوئی حیات اور کوئی یا اختیا را میر چونکہ ابھی ہندوستان میں موجود نہیں ہے اس وجہ سے یہاں جہاد بالسیف روا نہیں (ترجمان القرآن ستمبر اکتوبر ۶۱۹۲۵ صفحه ۱۸۲)