جدید علم کلام کے عالمی اثرات

by Other Authors

Page 76 of 156

جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 76

64 ہوئے کہ کسی اہل دل اور اہل ذکر کے پاس بیٹھنے کا اُن کو موقعہ نہ ملا اور خود اپنے اندرائی نور نہ رکھتے تھے۔وہ عموماً ٹھوکر کھا گئے اور اسلام سے دور جا پڑے اور بجائے اس کے کہ اُن علوم کو اسلام کے تابع کرتے الٹا اسلام کو علوم کے ماتحت کرنے کی بے سود کوشش کر کے اپنے زعم میں دینی اور قومی خدمات سے متکفل بن گئے مگر یاد رکھو کہ یہ کام وہی کر سکتا ہے یعنی دینی خدمت وہی بجا لا سکتا ہے جو آسمانی روشنی اپنے اندر رکھتا ہو" (ملفوظات جلد اول صفحه ۴۳ تقریر فرموده ۶۱۸۹۸ مطبوعه الحکم " مولانا مودودی صاحب نے طبقہ علماء میں سے ہونے کے باوجود حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی اس تحریک کو مشعل راہ بناتے ہوئے یہ رائے قائم فرمائی کہ : مغربی علوم وفنون بجائے خود سب کے سب مفید ہیںاور اسلام کو ان میں سے کسی کے ساتھ دشمنی نہیں بلکہ اینجا با ئیں یہ کہوں گا کہ جہاں تک حقائق علمیہ کا تعلق ہے اسلام ان کا دوست ہے اور وہ اسلام کے دوست ہیں۔" تنقیحات صفحه ۱۹-ایڈین پنجم ناشر جماعت اسلامی پاکستان) برطانوی ہند کے دارالحرب نہ ہونے کا مسئلہ گزشتہ صدی سے اب تک محل نزاع ہے۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی رائے میں وہ شرع دار الحرب نہیں تھا۔بائی میں مسلک مولانا مودودی نے اختیار کیا۔چنانچہ آپ اپنے رسالہ سود میں رقمطرازہ ہیں :۔ہندوستان اس وقت بلاشبہ دار الحرب تھا جب انگریزی حکومت یہاں اسلامی سلطنت کو مٹانے کی کوشش کر رہی تھی۔اس وقت مسلمانوں