جدید علم کلام کے عالمی اثرات

by Other Authors

Page 22 of 156

جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 22

۲۲ نا مارج ہے۔ویسے بھی اس آرڈینس پر صحیح تبصرہ تاریخ ہی کرے گی البتہ اس کے نفاذ کے بعد سپریم کورٹ اور ہائی کورٹوں کے نصف درجن سابق جج صاحبان نے شترکہ بیان میں یہ مطالبہ کیا تھا کہ :- " پاکستان میں سب کو اپنی پسند کے مذہب پر عمل کر نیکی اجازت ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا احمد یہ فرقہ یا کسی اور فرقہ کے افراد پر طریقہ عبادت اور کلمہ پڑھنے پر موجودہ پابندیاں، ان حقوق کی شدید خلاف ورزی ہے جن کی ضمانت مملکت کے تمام شہریوں کو دی گئی ہے۔نیز یہ بنیادی انسانی حقوق کے تصور کی بھی نفی ہے۔اس بیان پر دستخط کرنے والوں نے قائد اعظم کی پہلی دستور ساز اسمبلی میں اس تقریر کا حوالہ دیا جس نہیں اُنہوں نے کہا تھا کہ :۔تم آزاد ہو۔تم اپنے مندروں میں جانے پر آزاد ہو۔تم اپنی مسجدوں اور دیگر عبادت گاہوں میں آزادی سے جاسکتے ہو۔پاکستان میں تم کسی بھی مذہب یا ذات یا عقیدہ سے تعلق رکھ سکتے ہو۔کاروبار مملکت سے اس کا کوئی سروکار نہ ہوگا " ذیل کے اصحاب نے اس مشترکہ بیان پر دستخط فرمائے تھے :۔سپریم کورٹ آف پاکستان کے سابق حج جناب فخرالدین جی ابراہیم مغربی ہائی کورٹ کے سابق نا مسٹر علی سعید، مسٹر فضل مفتی ، سندھ ہائی کورٹ کے جناب ، عبد الحفیظ میمن اسے کیو صحالے پوتہ اور مسٹر جی ایم شاہ - اسلام کی ڈیڑھ ہزار سالہ تاریخ کے مختلف ادوار میں یہ الزام تو لگتا رہا کہ مسلمانوں نے زیر دستی کافروں کے کلمہ پڑھوایا البتہ کلمہ پڑھنے والوں کو بنوک شمشیر