جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 145
۱۴۵ اُس کی آواز دل پر اثر کرتی گئی بغیر میں نے عزیز سے کہا کہ مجھے تمام تقریر وہ فارسی میں شنا دے، اس نے مجھ سے بیان کیا اور اس کی باتوں کا مجھ پر اس قدیر اثر ہوا کہ اب تک جب مجھے خیال آجاتا ہے تو میرا جسم کانپ اُٹھتا ہے۔اس میں اُس نے بتایا کہ اگر میں والی بن گیا ہوں تو مجھے خدا سے بھی ڈرتے رہنا چاہیئے فرعون بے سامان کی طرح نہیں ہونا چاہیئے۔اور اسی لیے میں اس سادی حالت میں رہتا ہوں۔پھر اس نے میری روانگی کا انتظام کیا اور میں اندرون گتسان کی طرف روانہ ہوا۔پہلے دراجی قوم میں سے گزارا۔پھر ہمارا قافلہ وادی نہیں میں پہنچا۔ایک جگہ بہت جذامی آدمی دیکھے۔عثمان ہیں یہ وادی مشہور ہے ایس کے مرتبات بہت دور دور تک جاتے ہیں اور خشک نہیں ہوتے۔یہاں کے انار بھی مشہور ہیں۔یہاں کے لوگ لانچی ہیں اور ہمارا قافلہ لوٹنا چاہتے تھے اس لیے میں نے واپس سقط کا ارادہ کیا اور قوم درابی میں پہنچا۔اس دن راستے میں ہم پر گولیاں ھی چلائی گئیں کی ندا ر فضل سے نقصان ہوا جنوں گولیاں چلائی تھیں میں خود انکے گاؤں میں گیا۔انکے علامت کی اور والی سے ڈرایا۔پھر یہ لوگ شام کو مجھے ملنے آئے اور دستور کے مطابق اپنی خنجروں کو میرے سامنے رکھ دیا۔یعنی وہ صلح چاہتے تھے۔میں نے خنجروں کو ہا تھ لگا دیا اور اس طرح صلح ہو گئی۔یہاں میں کئی دن رہا۔اور یہ لوگ بازمی گرمی تماشہ اور چاند ماری کرتے تھے۔ایک عربسے حضرت مرزا صاحب کا تذکرہ ایک دن ایک نورانی شکل کا شخص میرے پاس بیٹھ گیا اور ترجمان کے ذریعے مجھ سے پوچھا کہ تم کہاں سے آئے ہو؟ نہیں نے کہا کہ افغانستان کا رہنے والا ہوں۔اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا رسالہ تھا۔اس نے کہا