جدید علم کلام کے عالمی اثرات

by Other Authors

Page 144 of 156

جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 144

۱۴۴ خلیج کا سفر ۱۹۰۹ء کے اخیر اور ۱۹۰۵ء میں میرا سفر خیلیج ، عراق ، مسقط ، اور عمان اور کچھ حصہ نجد کی طرف رہا۔پہلے جہاز سے ہم بوشہر اُترے۔اس کے بعد ہم کویت گئے۔اس جگہ مسلمانوں کا ایک فرقہ ہے جس کو خارجی کہتے ہیں۔یہ فرقہ سجد کی طرف رہتا ہے۔میرا خیال ہے یہ وہی وہابی ہیں جو کم و بیش ہندوستان میں پائے جاتے ہیں۔کو بیت سے ہم بحرین میں آئے اور بحرین سے مسقط میسقط میں سلطان مسقط نے مجھے اجازت دی کہ میں اندرون ملک عثمان کی کیر کیروں مسقط سے مجھے شہر متھرا میں بھیجا اور ایک خط سلطان مسقط نے دیا اور کہا کہ وہاں میرا بھائی ہے وہ وہاں کا والی ہے وہ تمہارا بندوبست کر دے گا اُس سے ملنا ایک فراش جس کا نام عزیز تھا مجھے قونصل خانے کی طرف سے بغرض ترجمانی علامتھرا میں پہنچ کر عز یز مجھے ایک مکان میں لے گیا۔اس میں بہت سے عرب بیٹھے ہوئے تھے۔جب ہم مکان میں داخل ہوئے تو سب کے سب تعظیم کے لیے کھڑے ہو گئے۔ان میں سب قسم کے لوگ تھے۔شائستہ اور نیم شائستہ بدو وغیرہ بہت دیر تک اُن کے ساتھ گفت گو ہوتی رہی۔اور میرا خیال تھا کہ والی بہت شان و شرکت کے ساتھ آئے گا۔شاید اس کا بنگلہ اور ہوگا۔عزیز سے نہیں نے فارسی میں دریافت کیا کہ والی کب آئے گا۔اُس وقت میرے اور عزیز کے درمیان جو نورانی شکل کا آدمی بیٹھا تھا اُس نے عزیز کو مخاطب کیا اور جلدی جلد میان میں سوال و جواب ہوتے رہے۔آخر میں اُس نے عزیز سے کہا کہ شیر جنگ سے کہو کہ والی میں ہی ہوں۔عزیز نے مجھے کہا۔اور اس کے بعد وہ والی آب دیدہ ہوا اور اُس نے ایک تقریر شروع کی جس کے معنی تو میں نہیں جانتا تھا لیکن