جدید علم کلام کے عالمی اثرات

by Other Authors

Page 10 of 156

جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 10

۱۰ عملی اثرات چودھویں صدی ہجری کے آغاز تک مسلمانان عالم خواب غفلت میں سو رہے تھے اور ان پر مکمل جمود طاری تھا یعنی کہ پان اسلام ازم کے بانی سید جمال الدین افغانی جسے عظیم قومی لیڈر (جنہیں شاعر مشرق ڈاکٹر سر محمد اقبال نے مجدد قرار دیات یہ نظریہ قائم کر چکے تھے کہ :۔" اذا اردنا ان ندعو احرار اورية الى ديننا رب طر فيجب علينا ان نقنعهم اولا أننا لسنا مسلمين فانهم ينظرون الينا من خلال القرآن هكذا - ورفع كفيه وفرج بين اصابعهها فيرون وراءه اقواماً فشا فيهم الجهل والتخاذل والتواكل ، فيقولون لو كان هذا الكتاب حقاً مصلحاً لما كان اتباعه كما نرى " الوحي المحمدي صفحه ۲۳ - موافقه علامه سید رشید رضا مصری ناشر المكتب الاسلامی - بیروت - دمشق ( ۶۱۹۸ ) یعنی اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہم یورپ کے آزاد انسانوں کو اپنے مذہب کی دعوت دیں تو ہمارا فرض ہوگا کہ سب سے پہلے ہم انہیں قائل کر دیں کہ ہم مسلمان نہیں ہیں۔کیونکہ وہ ہمیں دیکھ کر قرآن کریم کو سمجھنا چاہتے ہیں یہ کہ کہ آپ نے اپنی ہتھیلیوں کو اُٹھایا اور ان کی انگلیوں کو کشادہ کیا ، وہ قرآن مجید کے پس منظر میں ایسی قوموں کو دیکھتے ہیں جن پر حالت وذلت بھائی ہوئی ہے اور وہ خود اعتمادی کھوچکی ہیں۔وہ کہتے ہیں اگر یہ کتاب صداقت پر مبنی ہوتی اور اصلاح کرنے والی ہوتی تو اسکے