جدید علم کلام کے عالمی اثرات

by Other Authors

Page 11 of 156

جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 11

اتباع ایسے نہ ہوتے جیسا کہ ہم مشاہدہ کر رہے ہیں۔علامہ جمال الدین افغانی مسلمانوں کے دینی زوال کو دیکھے کہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ ان کے اخلاقی اقدار اس درجہ خراب ہو چکے ہیں کہ اصلاح کی کوئی امید نہیں۔کیا ہی اچھا ہوتا اگر نئی مخلوق پیدا ہوتی اور نئے دور کی ابتداء ہوتی اور اس وقت جو لوگ ہیں وہ سب مر جاتے صرف وہی زندہ رہتے جو بارہ سال سے کم عمر رکھتے ہیں۔اور نئی تربیت میں اُن کا اُٹھان ہوتا جو اُن کو راہ سلامت تک پہنچا دیتی۔(مقام جمال الدین افغانی صفحه ۸۸- ناشر نفیس اکیڈمی کراچی طبیع دوبر مئی ۶۱۹۴۹ اس ہوش کیا اور مایوس کن ماحول میں حضرت بانی سلسلہ احمد مطلع عالم پر نمودار ہوئے اور رب ذوالجلال کے محکم سے جماعت احمدیہ کی بنیاد رکھی۔اور پیش گوئی فرمائی کہ :- " خدا تعالیٰ نے اس گروہ کو اپنا جلال ظاہر کرنے کے لیئے اور اپنی قدرت دکھانے کے لیے پیدا کرنا چاہا ہے۔۔۔۔وہ جیسا کہ اس نے اپنی پاک پیش گوئیوں میں وعدہ فرمایا ہے اس گروہ کو بہت بڑھائے گا اور ہزارہا صادقین گو اس میں داخل کرے گا۔وہ خود اس کی آبنا ستی کر بیگا اور اس کو نشو و نما دے گا یہاں تک کہ ان کی کثرت اور برکت نظروں میں عجیب ہو جائے گی اور وہ ان چراغ کی طرح جو اونچی جگہ رکھا جاتا ہے دنیا کی چاروں طرف اپنی روشنی کو پھیلائیں گے اور اسلامی برکات کے لیئے بطور نمونہ کے ٹھہریں گے " (اشتہار میر مارچ ۱۸۸۹)