جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 63
۶۳ طرف ضعف مدافعت کا یہ عالم تھا کہ توپوں کے مقابلہ ہو تیر بھی نہ تھے اور جملہ اور مدافعت دونوں کا قطعی وجود ہی نہ تھا ہے تیر مسلمانوں کی طرف سے وہ مدافعت شروع ہوئی جس کا ایک حصہ مرزا صاحب کو حاصل ہوا۔اس مدافعت نے نہ صرف عیسائیت کے اس ابتدائی اثر کے پرخچے اڑائے جو سلطنت کے سایہ میں ہونے کی وجہ سے حقیقت میں اس کی جان تھا اور ہزاروں لاکھوں مسلمان اُس کے اِس زیادہ خطر ناک اور تحق کا میابی حملہ کی زد سے بچ گئے بلکہ خود عیسائیت کا طلسم وھواں ہو کر اڑنے لگا۔۔۔۔غرض مرزا صاحب کی یہ خدمت آنے والی نسلوں کو گرانبار احسان رکھے گی کہ انہوں نے قلمی جہاد کرنے والوں کی پہلی صف میں شامل ہو کر اسلام کی طرف سے فرض مدافعت ادا کیا اور ایسا لٹریچر یاد گار چھوڑا جو اس وقت تک کہ مسلمانوں کی رگوں میں زندہ خون رہے اور حمایت اسلام کا جذبہ اُن کے شعار قومی کا عنوان نظر آئے قائم رہے گا۔هندوستان آج مذاہب کا سجائب خانہ ہے۔اور جس کثرت سے چھوٹے بڑے مذاہب یہاں موجود ہیں اور باہمی کشمکش سے اپنی موجودگی کا اعلان کرتے رہتے ہیں اس کی نظیر ہ ڈاکٹر اسرار احمد صاحب ایم اے ایم بی بی ایس این تنظیم اسلامی پاکستان لکھتے ہیں قلمت اسلامی کا قصر گویا دفعہ زمین پر آرہا اور اسلام اور مسلمان دونوں اپنے زوال اور انحطاط کی آخری حدوں تک پہنچ گئے یا امرا فگندم ملا تاثر مرکزی مکتب تنظیم اسلامی کا بورجون ۱۹۷۹)