جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 62
۶۲ ایک بڑا شخص اُن سے جدا ہو گیا اور اس کے ساتھ مخالفین اسلام کے مقابلہ پر اسلام کی اس شاندار مدافعت کا جو اس کی ذات سے ان کی یہ خصوصیت کہ وہ اسلام کے مخالفین کے برخلاف ایک فتح نصیب جنرل کا فرض پورا کرتے رہے ہمیں مجبور کرتی ہے کہ اس احساس کا تعلیم کھلا اعتراف کیا جاوے تا کہ وہ تم بالشان تحریک میں نے ہمارے دشمنوں کو عرصہ تک پست اور پامال بنائے رکھا آئیندہ بھی جاری رہے گا 15 شاه مرزا صاحب کا لٹریچر جو سیمیوں اور آریوں کے مقابلہ پر اُن سے ظہور میں آیا قبول عام کی سند حاصل کر چکا ہے اور اس خصوصیت میں وہ کسی تعارف کا محتاج نہیں۔اس لٹریچر کی قدر عظمت آج جبکہ وہ اپنا کام پورا کر چکا ہے ہمیں دل نے تو کونی پڑتی ہے۔اس لیے کہ وہ وقت ہر گز لوح قلب سے نسیا منیتیا نہیں ہو سکتا۔جبکہ اسلام مخالفین کی یورشوں میں گھر چکا تھا اور مسلمان جو حافظ حقیقی کی طرف سے عالمہ اسباب و وسائط ہیں حفاظت کا واسطہ ہو کر اس کی حفاظت پر مامور تھے اپنے تصورں کی پاداش میں پڑے سسک رہے تھے اور اسلام کے لیے کچھ نہ کرتے تھے یانہ کر سکتے تھے۔ایک طرف جملوں کے امتداد کی یہ حالت تھی کہ ساری سیمی دنیا اسلام کی شمع عرفان حقیقی کو سر راہ منزل مزاحمت سمجھ کے مٹا دنیا چاہتی تھی اور عقل و دولت کی زبر دست طاقتیں اس حملہ آور کی پشت گرمی کے لیے ٹوٹی پڑتی تھیں اور دوسری