جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 64
۶۴ غالباً دنیا میں کسی جگہ سے نہیں مل سکتی۔مرزا صاحب کا دعوی تھا کہ یکیں ان سب کے لیے محکم و عدل ہوں لیکن اس میں کلام نہیں کہ ان مختلف مذاہب کے مقابلہ پر اسلام کو نمایاں کردینے کی اُن میں بہت مخصوص قابلیت تھی اور یہ نتیجہ تھی ان کی فطری استعداد کا ، ذوق مطالعہ اور کثرت مشق کا۔آئندہ امید نہیں ہے کہ ہند ستون کی مذہبی دنیا میں اس شان کا شخص پیدا ہو جو اپنی اعلی اخو اہشیں محض اس طرح مذاہب کے مطالعہ میں صرف کر دیے ہیں مولانا صاحب نے اس کے بعد اخبار وکیل کے ۳۰ مئی ۱۹۰۸ء کے پرچہ میں ایک اور شذرہ سپرد قلم فرمایا جس کا ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیے :۔اگر چه مرزا صاحب نے علوم مروجہ اور دینیات کی باقاعدہ تعلیم نہیں پائی تھی مگر ان کی نہ ندگی اور زندگی کے کارناموں کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ خاص فطرت لے کر پیدا ہوئے تھے جو ہر کس و ناکس کو نصیب نہیں ہو سکتی۔انہوں نے اپنے مطالعہ اور فطرت سلیم کی مدد سے مذہبی لٹریچر پر کافی عبور حاصل کیا۔۔۱۸۷۱ء کے قریب جبکہ اُن کی ۳۵ ۳۶ سا کی عمر تھی ہم اُن کو ایک غیر معمولی مذہبی جوش میں سر شار پاتے ہیں۔وہ ایک سچے اور پاکباز مسلمان کی طرح زندگی بسر کرتا ہے۔اس کا دل دنیوی کی خششوں سے غیر متاثر ہے اور خلوت میں انجمن اور انجمن میں خلوت کا لطف اٹھانے کی کوشش میں مصرف ه بحواله بدر ۸ ارجون ۱۹۰۸ صفحه ۳۰۲ -