جدید علم کلام کے عالمی اثرات

by Other Authors

Page 45 of 156

جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 45

۴۵ کرتے ہوئے کہتا ہے اس يا "فتح" تحن مكة ننتظر الرسولا سعیدہ انیس ماجد نے اس مصرعہ کو درج ذیل انگریزی الفاظ میں منتقل کیا ہے :۔AL-FATAH, WE ARE THE MECCA OF THE PAST, AWAITING REDEMPTION WITH THE BIRTH OF THE PROPHET'' رساله " فتح " مطبوعہ آزادکشمیر پرنٹنگ پریس ۸۱/۴ شارع قائد اعظم لاہو) معنی الفتح اور ہم ماضی کے منکر ہیں اور نہایت شدت سے ایک نہیں کی پیدائش کا انتظار کر رہے ہیں۔سعودی عرب کے مدارس میں ایک کتاب " القرأة الاعدادية داخل نصاب رہی ہے جس کا ایک باب گاندھی جی کے لیے مخصوص ہے جس میں اُن کی شان میں ایک قصیدہ بھی درج ہے جس کا ایک شعر یہ ہے :- نبي مثل كنفيرتس او من ذالك العهد (بحوالہ اخبار رضائے مصافی ۱۵ر صفر المظفر ۱۳۷۹ صفحه ۵ - مطابق ۲۰ اگست ۱۹۵۹ء) - یعنی گاندھی کنفیوشس کی طرح نبی ہیں یا اسی عہد سے تعلق رکھتے ہیں۔ستمبر ۱۹۵۶ء میں بھارت کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض پہنچے تو محافظ الحرمین الله فین جلالت الملک شاه سعود نے اُن کا پر جوش استقبال کیا اور مرحبا نهر و رسول السلام امیر مین)۔