جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 44
صرف مراد میری نبوت سے کثرت مکالمت مخاطبت الہیہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع سے حاصل ہے۔عو مکالمہ مخاطبہ کے آپ لوگ بھی قائل ہیں۔پس یہ صرف لفظی نزاع ہوئی یعنی آپ لوگ جس امر کا نام مکالمہ مخاطبہ رکھتے ہیں میں اُس کی کثرت کا نام بموجب حکم الہی نبوت رکھتا ہوں " ر حقیقة الوحی تقمه صفحه ۶۴ - تاریخ اشاعت ۱۵ اپریل ۶۱۹۰ وسط ایشیا کے مستند و مذہبی راہ نماؤں کے نزدیک نہ صرف حضرت بانی جامعات احمدیہ کا دعوی معاذالار شارع نبی کا ہے بلکہ وہ آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے لیے نبی و رسول کے الفاظ کا استعمال شجر ممنوعہ سمجھتے ہیں اور عرب ذہن اور عرب دماغ کو مکمل طور پر اسی رنگ میں رنگیں کرنے کی سر توڑ کوششیں کر رہے ہیں مگر انہیں غربی مزاج کو اس محبی فکر سے ہم آہنگ کرنے میں کوئی کا میابی حاصل نہیں ہوئی میں پر عرب کی جدید تاریخ گواہ ہے۔اسی صدی میں اہل عرب نے نبی اور رسول کا لفظ جس رنگ میں مسلمانوں بلکہ غیر مسلموں کے لیے استعمال کیا ہے وہ ایک غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔مصر کے صدر جمال عبد الناصر کے حادثہ وفات پر اخبار الكويت (۵) ار اکتوبر ۱۹۷ء) نے عربوں کے نامور قوم پرست شاعر نزار قبانی کا مرتبہ شائع کیا جس کا عنوان تھا " قتلناك يا آخر الانبیاء اسے آخری نبی ہم نے تجھے قتل کر دیا۔بیروت سے القذاقی رسُول الصحراء " کے نام سے کرنل معمر قذافی صدر لیبیا کی سوانح حیات شائع کی گئی۔کتاب کا آغاز جمالی عبد الناصر کی عکسی تحریر سے ہویا۔یہ در اصل ایک اٹالین مصنفہ میریلا بیانگر کی کتاب کا عربی ترجمہ تھا جو عرب ملکوں میں بکثرت شائع کی گئی۔اسی طرح نزار قبانی اپنی ایک مید نظم من فلسطین کے سرفروش نوجوانوں کی تنظیم" الفتح " کی ترجمانی کرتے نہ i