جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 46
۴۶ کے فلک شگاف نعروں سے حجاز کی سرزمین گونج اٹھی۔پاکستانی علما ر نے اس نعرہ پر سعودی حکومت سے احتجاج کیا جسے سعودی سفارت خانہ نے یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ یہ لوگ عربی کی ابجد سے بھی واقف نہیں، عربی میں قاصد کو رسول کہتے ہیں۔تاریخی حقائق صفحہ ۲۰- اسم مؤلفہ مولانا الحاج ابو داود محمد صادق صاحب ناشرر صوبیہ کتب خانه پلاک۔وانگراں لاہور) رابطہ عالیہ اسلامی کے زیر اہتمام کیا منظر میں ۲۰ نمبر ا ۱۲۵ رتبه ۱۹۷۰ و ایک بین الا قوامی کا نفرنس منعقد ہوئی جس میں دنیا بھر کے ممالک سے سلم نمائندگان نے شرکت کی اور مقالے پڑھے۔کانفرنس میں مسجد کے حقیقی مقام سے اسلامی روایات کی روشنی میں متعارف کرایا گیا اور اس کا نام رکھا گیا " مؤتمر احياء رسالة المسجد کا نفرنس کی مکمل روداد بحوث مؤتمر رسالة المسجد کے عنوان سے جدہ سے چھپ چکی ہے ، نظاہر ہے رسائیت کے معنی یہاں پیغامبری کے ہیں۔جہاں تک حضرت اقدس بانی سلسلہ احمدیہ کے دعوئی کا تعلق ہے تو صغیر پاک ہند کے غالی طائفوں کے مقابل عرب کے چوٹی کے اہل قلم حلقوں نے کسی او یہ نگاہ سے آپ کی تحریرات کا مطالعہ کیا ہے اور آپ کے دعوی کی حقیقت و نوعیت معلوم کی ہے اس کا ایک شاندار نمونه ممتاز مصرف عالم محمد سود کلانی کا وہ نوٹ ہے جو آپ نے پانچویں صدی کے متکلم اسلام علامہ ابو الفتح محمد بن ابو بکراحمد الشهرستانی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب الملل والنحل کے ضمیمہ میں" المحركة القاديانية کے عنوان سے پسر در قلم فرمایا ہے۔کتاب کا یہ ایڈیشن بیروت کے دارالمعرفہ نے سے قلم چو و مویں صدی ہجری کے آخری سال شائع کیا تھا۔علام محمد یاد گیلانی اس حقیقت افروز نوٹ میں حضرت اقدس کی کتاب بنا بر نظم