جدید علم کلام کے عالمی اثرات

by Other Authors

Page 15 of 156

جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 15

۱۵ کرنا ہے۔یعنی وہ صرف یہ کہ کر خاموش نہیں ہو جاتے کہ اخلاق بلند کرو بلکہ اپنے کردار عمل سے بھی اس تعلیم کی برکات کا ثبوت دیتے ہیں۔اتنا صریح روشن اور واضح ثبوت جس سے غیر بھر ممکن ہی نہیں۔چنانچہ اگر تحریک احمدیت کے آغاز سے اس وقت تک کی ان تمام خدمات کا جائزہ ہیں جو اس نے خالص اخلاقی فقطۂ نظر سے مفاد عامہ کے لیے انجام دی ہیں تو آنکھیں جھکی رہ جاتی ہیں ؟“ (الفضل ۱۲ اکتوبر ۶۱۹۶۳ ) پاکستان کے مورخ جناب شیخ محمد اکرام صاحب اپنی مشہور کتاب موج کو تو کے صفحہ ۲۰۳ پر لکھتے ہیں : :- احمدیہ جماعت کی تبلیغی کوششیں صرف انگلستان تک محدود نہیں بلکہ انہوں نے کئی دوسرے ممالک میں بھی اپنے تبلیغی مرکز کھولے ہیں۔دنیا کے مسلمانوں میں سب سے پہلے احمدیوں اور قادیانیوں نے اس حقیقت کو پایا کہ اگر چہ آج اسلام کے سیاسی زوال کا زنا ہے لیکن عیسائی حکومتوں میں تبلیغ کی اجازت کی وجہ سے مسلمانوں کو ایک ایسا موقع بھی حاصل ہے جو نہ منب کی تاریخ میں نیا ہے اور جس سے پورا پورا فائدہ اُٹھانا چاہیے۔اگر چہ جو کام بھی تک انہوں نے کیا ہے وہ ایک کامیاب ابتداء سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا لیکن انہوں نے ہندوستانی مسلمانوں کے سامنے ایک نیا رستہ کھول دیا ہے جس کے ذریعے وہ اپنے مذہب کی بڑی خدمت کر سکتے ہیں۔اسلامنا ہندوستان اور دوسرے اسلامی ممالک کے درمیان روابط قائم کر سکتے ہیں۔اور دُنیائے اسلام میں وہ