جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 14
۱۴ ہیں لیکن مجھے تو آج ان مدعیان اسلام کی جماعتوں میں کوئی جماعت ایسی نظر نہیں آتی جو اپنی پاکیزہ معاشرت، اپنے اسلامی رکھ رکھاؤ، اپنی تاب مقاومت اور خوٹے صبر و استقامت میں احمدیوں کے خاک پا کو بھی پہنچتی ہو! این آتش نیرنگ نه سوز و همه کس را یہ امر مخفی نہیں کہ تحریک احمدیت کی تاریخ شہ سے شروع ہوتی ہے جس کو کم و بیش نشتر سال سے زیادہ نہ مانہ نہیں گزرا لیکن اسی قلیل مدت میں اس نے اتنی وسعت اختیار کرلی کہ آج لاکھوں تقوس اس سے وابستہ نظر آتے ہیں اور دنیا کا کوئی دور و دراز گوشه ایسا نہیں جہاں یہ مردان خدا اسلام کی صحیح تعلیم انسانیت پرستی کی نشر و اشاعت میں مصروف نہ ہوی۔۔۔۔اور جب قادیان در بوہ میں صدائے اللہ اکبر بلند ہوتی ہے تو ٹھیک اسی وقت یورپ و افریقہ والیشیا کے ان بعید و تاریک گوشوں سے بھی یہی آواز بلند ہوتی ہے جہاں سینکروں غریب الدیاراحمدی خدا کی راہ میں دلیرانہ قدم آگے بڑھائے ہوئے چلے جارہے ہیں۔"۔(ماہنامہ نگار لکھنو۔جولائی 1940ء صفحہ 114-119) نیز فرماتے ہیں :۔اس کا نصب العین صرف قرآن اور اسلامی لٹریچر کی اشاعت ہی نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ تعلیمات اسلام اخلاق اسلام اور غایت ظہور اسلام کی عملی مثالیں بھی قائم