جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 16
14 ا سربلندی اور درجہ حاصل کر سکتے ہیں۔جس کے وہ اپنی تعداد، مذہبی جوش اور شاندار سیاسی روایات کی وجہ سے مستحق ہیں۔اب رو زیر وز بر صغیر پاک و ہند کے مسلمان بھی اس خیال کے پابند ہوتے جاتے ہیں کہ اسلامی دنیا کی مصلحت اس میں نہیں کہ پاک و ہند کے مسلمان ترکی یا مصر یا کسی اور مختصر سے اسلامی ملک تھے تابع معمل ابنے رہیں۔بلکہ اسلامی مصلحتوں کا تقاضا ہے کہ علمی اور تبلیغی بلکہ اقتصادی اور تمدنی امور میں بھی پاکستان اور ہندوستان کے مسلمان دنیائے اسلام یا کم از کم اسلامی ایشیا کی راہنمائی کریں۔یہ خیال قوم سے مطمح نظر کو بلند کر کے ایک نئی کروبیانی زندگی کا باعث ہوگا۔لیکن اس کے ایک حصے کی عملی تشکیل سب سے پہلے احمدیوں نے کی۔“ بر صغیر کے ایک ممتاز عالم دین مولانا عبد الماجد صاحب دریا بادی مدیر اصداق جدید (لکھنو) نے قادیان سے شائع ہونے والے رسالہ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا:۔احمدیہ جماعت قادیان اپنے ناک میں جوخد مت تبلیغ اسلام کے سلسلہ میں کر رہی ہے یہ رسالہ اس کا پورا مرقع ہے۔جماعت کے مشن یورپ ، امریکہ، مغربی افریقہ، مشرقی افریقه، ماریشین انڈونیشیا نائیجیریا اور ہندوستان و پاکستان کے خدا معلوم کے مختلف مقامات میں قائم ہیں، ان سب کی فہرست اور ان کی کارگزاریاں، ان سے تبلیغی لٹریچر کی اشاعت انگریزی، فرینچ، جرمن، ڈچ ، سلینی فارسی، برمی، ملایا ، تامل، ملیالم، مرہٹی ، گجراتی، ہندی اور اردو زبان