اتمام الحجّة — Page 13
اتمام الحجة ۱۳ اردو تر جمه قد وقعت و تمت ولیس وہ وقوع پذیر ہوگئی اور پا یہ تکمیل کو پہنچ گئی نہ یہ کہ وہ بواقع كما ظن بعض واقع ہونے والی ہے جیسا کہ بعض لوگوں کا خیال الناس۔أفأنت تظن أن النصاری ہے۔کیا تم خیال کرتے ہو کہ نصاری نے اپنے ما أشركوا بربهم وليسوا رب کے ساتھ شریک نہیں ٹھہرایا ؟ اور کیا وہ قیدیوں في شرك كالأسارى؟ کی طرح اس کے دام میں گرفتار نہیں ہیں؟ اگر تم یہ وإن أقررت بأنهم قد ضلوا اقرار کرتے ہو کہ وہ گمراہ ہو چکے ہیں اور دوسروں کو وأضلوا، فلزمك الإقرار بھی انہوں نے گمراہ کیا ہوا ہے تو پھر لازمی طور پر بأن المسیح قدمات تمہیں اس کا بھی اقرار کرنا ہو گا کہ مسیج مر گئے اور وفات، فإنّ ضلالتهم فوت ہو گئے۔کیونکہ ان (نصاری ) کی گمراہی کانت موقوفة على وفاة مسیح کی وفات پر موقوف تھی اس لئے غور کر اور المسيح، فتفكر ولا تجادل بے حیاؤں کی طرح فضول بحث نہ کر۔اور یہ کالوقيح۔وهذا أمر قد (وفات مسیح کا معاملہ قرآن اور انس و جن کے الله ثبت من القرآن، ومن حديث امام اور نبی (حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی إمام الإنس ونبي الجان، حدیث سے ثابت شدہ ہے۔اس لئے تمہیں کسی فلا تسمع رواية تخالفها، ایسی روایت پر کان نہیں دھرنے چاہئیں جو ان وإن الحقيقة قد انكشفت کے مخالف ہو۔حقیقت تو کھل کر سامنے آچکی۔فلاتلتفت إلى من اس لئے تم کسی ایسے شخص کی طرف توجہ مت دو خالفها، ولا تلتفت بعدها جوان کا مخالف ہے اور نہ ہی تم اس کے بعد إلى رواية والراوی کسی روایت اور راوی کی طرف توجہ دو۔ان ولا تهلك نفسك من دعاوی کے باعث اپنے تئیں ہلاک نہ کر۔اور الدعاوى، وفكّر كالمتواضعين عاجزی اختیار کرنے والوں کی طرح غور وفکر کر۔