اتمام الحجّة — Page 14
اتمام الحجة ۱۴ اردو تر جمه هذا ما ذكرناك من النبي يہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کا وہ والصحابة لنزيل عنك (عقیدہ) ہے جو ہم نے تجھے یاد دلایا ہے تا کہ ہم تجھ غشاوة الاسترابة، وأما حقيقة سے شکوک کا پردہ ہٹا دیں۔صحابہ کے بعد آنے والے إجماع الذين جاء وا بعدهم، لوگوں کے اجماع کی حقیقت کا جہاں تک تعلق ہے تو فنُذكرك شيئا من كلمهم ان کی بعض باتوں کا ذکر ہم آئندہ تم سے کریں گے۔وإن كنت من قبل من الغافلين۔اگر چہ تم اس سے پہلے محض غافل تھے۔فاعلم أن الإمام البخاري جان لو کہ امام بخاریؒ جو اللہ کے فضل سے الذي كان رئيس المحدثين رئيس المحد ثین تھے وہ وفات مسیح کا سب سے پہلے من فضل البارى، كان أول اقرار کرنے والے تھے۔جیسا کہ انہوں نے اپنی المقرين بوفاة المسيح، كما صحیح میں اس کی جانب اشارہ فرمایا ہے۔انہوں أشار إليه في الصحيح، فإنه نے ان دو آیتوں (إِنِّي مُتَوَفِّيكَ فَلَمَّا جمع الآيتين لهذا المراد تَوَفَّيْتَنِی ) کو اس غرض سے جمع کیا تھا تا کہ وہ ليتظاهـرا ويحصل القوة دونوں ایک دوسرے کو تقویت دیں اور اجتہاد للاجتهاد۔وإن كنت تزعم أنه مضبوط ہواور اگر تمہارا یہ خیال ہے کہ اُنہوں نے ان ما جمع الآيتين المتباعدتين دو متباعد آیتوں کو اس نیت سے جمع نہیں کیا تھا اور اُن لهذه النية، وما كان له غرض کی غرض اس عقیدہ ( وفات مسیح) کو ثابت کرنے کی نہیں تھی۔تو پھر اگر تم چشم بصیرت رکھتے ہو تو بتاؤ لإثبات هذه العقيدة، فبينُ لِمَ جمع الآيتين إن كنت من ذوى کہ انہوں نے ان دو آیتوں کو کیوں جمع کیا ؟ اور اگر تم اس کی وضاحت نہ کر سکو اور تم ہر گز نہیں کر العينين؟ وإن لم تبيّن، ولن سکو گے تو پھر اللہ سے ڈرواور فاسقوں کی راہوں تبيّن، فاتق الله ولا تُصرّ على پر چلنے پر اصرار نہ کرو۔طرق الفاسقين۔ال عمران : ۵۶ المائدة : ١١٨