اسلامی لٹریچر میں خوفناک تحریف

by Other Authors

Page 23 of 81

اسلامی لٹریچر میں خوفناک تحریف — Page 23

23 ایسا کرتے ہیں تو تم کیا کر رہے ہو۔وہ اس کی بیگانگی کے اقراری ہیں اور تم نے آتش پرستی میں عمر بسر کر دی ہے۔آگ جس کی پرستش تم نے ستر سال کی ہے تمہیں اور مجھے دونوں کو جلا دے گی اور تیرا کچھ لمحاظ نہ کرے گی لیکن اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو آگ کی مجال نہیں کہ میرے بدن کا ایک بال بھی جلا سکے خواہ آزما لو۔آؤ ہم دونوں آگ میں ہاتھ ڈالتے ہیں پھر تمہیں آگ کی کمزوری اور اللہ تعالیٰ کی قدرت معلوم ہو جائے گی۔یہ کہہ کر دونوں نے آگ میں ہاتھ رکھے۔آگ نے ذرا بھی اثر نہ کیا۔جب شمعون نے یہ دیکھا تو حالت بدل گئی، دل میں محبت پیدا ہوئی اور حسن رضی اللہ عنہ کو کہا کہ میں ستر سال تو آتش پرستی کرتا رہا اب چند ایک دم باقی ہیں ان میں میں کیا کر سکتا ہوں۔فرمایا بہتر یہی ہے کہ تو مسلمان ہو جائے کہا اگر آپ اس بات کی نوشت دے دیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے عذاب نہیں کرے گا تو میں مسلمان ہو جاتا ہوں۔آپ نے خط لکھ دیا شمعون نے کہا اس پر عمائد بصرہ گواہی کے دستخط کریں۔جب وہ دستخط ہو گئے تو آپ نے وہ خط شمعون کو دیا۔شمعون زار زار رویا اور مسلمان ہو گیا اور حسن بصری کو وصیت کی کہ جب میں مرجاؤں تو آپ اپنے ہاتھ سے مجھے غسل دیں اور قبر میں دفن کر کے یہ خط میرے ہاتھ میں دیں تا کہ میرے پاس دلیل ہو۔اسلام لا کر وہ مر گیا آپ نے اس کی وصیت کے مطابق کام کیا چنانچہ خود غسل دیا نماز جنازہ کی اور دفن کیا۔آپ کو اس رات فکر کے مارے نیند نہ آئی ساری رات نماز ادا کرتے رہے اپنے دل میں کہتے تھے کہ میں نے کیا کیا میں تو خود ہی ڈوبا ہوا ہوں دوسرے کو کس طرح بچاؤں گا مجھے اپنے ہی ملک پر دسترس نہیں تو پھر میں نے اللہ تعالیٰ کے ملک کے بارے میں کیونکر نوشت دے دی اسی اندیشے میں آنکھ لگ گئی تو