اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 22 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 22

خلاصہ کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قرب کے لحاظ سے انبیاء کے نسبتی مراتب کا فیصلہ کرنا اور پھر اس کا اعلان کرنا اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔عین ممکن ہے کہ کسی ایک زمانہ اور مذہب کے نبی کے متعلق خدا کی خوشنودی کا اظہار ایسے رنگ میں ہوا ہو جس سے یہ مترشح ہوتا ہو کہ وہ نبی ہی افضل ترین ہے۔لیکن یہ سب جانتے ہیں کہ اعلیٰ ترین اور افضل ترین جیسے الفاظ ایک محدود زمان و مکان کی نسبت سے بھی استعمال ہوئے ہیں۔ان برگزیدہ وجودوں کے متعلق انتہائی تعریف کے ایسے الفاظ استعمال ہوئے جن سے ان کے ماننے والوں میں ایک لط فہمی پیدا ہو سکتی ہے کہ وہ اس وجود کو آنے والے سب زمانوں میں اور سب برگزیدوں میں بہترین اور مقدس ترین یقین کرلیں، حالانکہ ان کی سب پر فضیلت ان کے اپنے زمانہ تک محدود تھی۔بہر حال کسی مذہب کے پیروؤں کا سچے دل کے ساتھ اپنے پیشوا کو ایسے بلند مرتبہ کا حامل یقین کرنا دوسروں کی ناراضگی کا باعث نہیں ہونا چاہئے۔تہذیب اور شائستگی کا تقاضا یہ ہے کہ ایسے امور کو اس رنگ میں پیش نہ کیا جائے جس سے مختلف مذاہب کے درمیان سخی پیدا ہو۔حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو مسلمانوں کو جو بات سمجھائی اس کی دراصل یہی اہمیت اور حکمت ہے۔اگر تمام مذاہب عاجزی و انکساری اور تہذیب و شائستگی کے اس اصول کو اچھی طرح اپنا لیں تو مذہبی دنیا میں باہمی اختلافات کی فضا کو خوشگوار بنایا جا سکتا ہے۔نجات پر کسی ایک مذہب کی اجارہ داری نہیں ہو سکتی انسان کی حقیقی نجات کا بظاہر سیدھا سادا سا مسئلہ بھی مذہبی دنیا کے امن کے لئے ایک خطرہ بن سکتا ہے۔خصوصا جب یہ دعویٰ کیا جائے کہ جو شخص شیطان سے بچنے اور نجات کے لئے ایک خاص مذہب کو اختیار نہیں کرے گا وہ ابدی جہنم کا وارث ہوگا تو 22 222