اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 23 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 23

اس کا نتیجہ سوائے بدامنی کے اور کیا ہو سکتا ہے۔ایک مذہب کو نجات اور گناہ سے رہائی کا ذریعہ قرار دینا اور بات ہے لیکن ساتھ ہی یہ فتویٰ صادر کر دینا کہ جو شخص حصول نجات کے لئے اس مذہب میں داخل نہ ہوگا وہ ضرور جہنم میں ڈالا جائے گا یہ ایک بالکل مختلف بات ہے۔بالفاظ دیگر اس کا مطلب یہ ہوگا کہ دوسرے مذاہب کے لوگ رضائے الہی کے حصول کے لئے کتنی ہی کوششیں کیوں نہ کریں اپنے خالق اور اس کی مخلوق سے کتنا ہی پیار کیوں نہ کریں اور کیسی ہی نیکی اور پارسائی کے ساتھ زندگی کیوں نہ گزاریں وہ بہر حال جہنم رسید ہوں گے۔ان کا قصور اگر ہے تو صرف اتنا کہ وہ نجات کے لئے اس خاص مذہب میں داخل نہیں ہوئے۔جب ایسے کٹر اور تنگ نظری اور عدم رواداری پر مبنی نظریہ کا اشتعال انگیز پیرایہ میں اظہار کیا جائے جیسا که متشدد مذہبی لوگ عام طور پر کیا کرتے ہیں تو اس سے سخت فتنہ و فساد کا دروازہ کھل جاتا ہے۔دنیا میں طرح طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں۔تعلیم یافتہ مہذب اور شائستہ مزاج لوگوں کے ساتھ ساتھ جاہل اور اجڈ لوگ بھی ہوتے ہیں۔ایک مہذب اور تعلیم یافتہ انسان کے خلاف کوئی ایسی بات کی جائے تو اس کا رد عمل تہذیب اور شائستگی کے دائرہ کے اندر رہتا ہے لیکن مذہبی رجحانات رکھنے والے لوگوں کی ایک بڑی تعداد اپنے مذہبی جذبات کے مجروح ہونے پر بڑا شدید ردعمل دکھایا کرتی ہے بلکہ ایسے لوگ تعلیم یافتہ بھی ہوں تو ان کا رد عمل بڑا سخت ہوتا ہے۔بدقسمتی سے تقریباً تمام مذاہب کے علماء کا ان لوگوں کے خلاف ایسا ہی رد عمل ہوتا ہے جو ان کے ہم خیال نہیں ہوتے۔قرون وسطی کے اکثر مسلمان علماء نے بھی یہی طریق اختیار کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ حصول نجات کا ذریعہ صرف اسلام ہے۔ان کی مراد اس سے یہ تھی کہ ظہور اسلام کے بعد آج تک جتنے لوگ پیدا ہوئے اور دائرہ اسلام سے باہر رہتے ہوئے مر گئے وہ سب کے سب ہمیشہ ہمیش کے لئے نجات سے محروم رہیں 23 223