اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 247 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 247

(۵) اسلام کا پانچواں رکن حج ہے۔عموماً حج کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ وحدت انسانی کا عظیم ترین اظہار ہے۔حج میں خواتین کو بالکل سادہ سفید رنگ کے سلے ہوئے کپڑے پہنے کی اجازت ہوتی ہے جبکہ مرد صرف دوان سلی سفید چادریں اوڑھتے ہیں۔امیر و غریب سب کے لئے یہی ایک لباس مقرر ہے۔اسی پر بس نہیں مذکورہ بالا عبادات کے علاوہ مسلمان معاشرہ میں اور بھی بہت سے ایسے مؤثر اقدامات کئے گئے ہیں جن کے ذریعہ مختلف طبقات کے درمیان فاصلہ کم سے کم تر ہوتا چلا جاتا ہے۔اس طرح ایک صحت مند ماحول کی خاطر باہمی رابطہ اور میل ملاپ کی اشد ضرورت پوری ہوتی رہتی ہے اور معاشرہ گھٹن کا شکار نہیں ہونے پاتا۔اس صحت مند معاشرہ میں امراء کو یہ اجازت تو ہے کہ وہ مناسب حدود میں رہتے ہوئے اپنی امارت سے بہرہ مند ہوں لیکن ساتھ ہی انہیں غرباء کی دیکھ بھال کا حکم بھی دیا گیا ہے۔حضرت مسیح علیہ السلام کے اس قول میں کہ” کمزور اور عاجز زمین کے وارث ہوں گے اس اصول کی تشریح کی گئی ہے۔یہ ایک افسوسناک صورت حال ہے کہ اس اخلاقی تعلیم کے باوجود سرمایہ دارانہ نظام معاشرہ کے کمزور اور غریب افراد کی دیکھ بھال میں ناکام رہا ہے۔عالمی ذمہ داریاں اگر کوئی معاشرہ کسی قدرتی آفت یا مصیبت کا شکار ہو جائے تو اس صورت میں اس کی کس طرح اور کیا کیا مدد کی جا سکتی ہے (دیکھیں بنیادی ضروریات زندگی کی مذکورہ بالا بحث) قرآن کریم مندرجہ ذیل ترتیب سے اس کا ذکر فرماتا ہے: رقبة أَوْ إِطْعَمْ فِي يَوْمٍ ذِى مَسْغَبَةٍ يَّيْمَا ذَا مَقْرَبَةِ أَوْ مِسْكِينَا ذَا مَتْرَبَةِ 247 (سورۃ البلد آیات ۱۴ تا ۱۷)