اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 248 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 248

ترجمہ:۔گردن کا آزاد کرنا۔یا ایک عام فاقہ والے دن میں کھانا کھلانا۔ایسے یتیم کو جو قرابت والا ہو یا ایسے مسکین کو جو خاک آلودہ ہو۔بالفاظ دیگر صحیح ترجیحات یہ ہوں گی : (1) ان آیات میں بنی نوع انسان کی اس حقیقی اور سچی خدمت کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ کے حضور قبول کی جاتی ہے۔سب سے بڑھ کر تو وہ لوگ مدد کے محتاج ہیں جو غلامی کی سی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں یعنی قید و بند کا شکار ہیں یا ان کی آزادی کسی اور طرح سے سلب کی جاچکی ہے۔ان لوگوں کی کسی بھی قسم کی خدمت جو اس نظریہ کی روح کے منافی ہو اللہ تعالیٰ کے نزدیک کوئی قدر و قیمت نہیں رکھتی۔اس لحاظ سے کم ترقی یافتہ ممالک کی مالی مدد کا موجودہ نظام جس میں مدد کے ساتھ بہت سی شرائط اور پابندیاں عائد کر دی جاتی ہیں کلیتہ مسترد کئے جانے کے لائق ہے۔(۲) اس کے بعد اول حق یتیم کا ہے۔یتیم کا کوئی سر پرست ہو یا نہ ہو ضروری ہے کہ اس کے لئے مناسب خوراک کا بندو بست کیا جائے۔(۳) اس کے بعد ایسے نادار اور مسکین کا حق ہے جو غربت کے ہاتھوں مٹی میں مل چکا ہو۔اس کے لئے بھی خور و نوش کا تسلی بخش انتظام کیا جانا ضروری ہے۔اگر چہ ان آیات میں بظاہر خطاب تو صیغہ واحد میں ہے لیکن صاف ظاہر ہے کہ یہاں ذکر ایک بہت بڑی اور وسیع تر مصیبت کا ہو رہا ہے۔لفظ یوم کے معنی دن کے ہیں۔آیات کا مفہوم اور عمومی طرز بیان واضح طور پر بتا رہا ہے کہ امیر طاقتور اور بڑے بڑے ممالک غریب کی نامساعد حالات میں مدد تو کرتے ہیں لیکن اس کے ساتھ کئی قسم کی پابندیاں اور شرائط بھی عائد کر دیتے ہیں اس طرح مدد کی حقیقی روح ختم ہو جاتی ہے اور اصل مقصد فوت ہو جاتا ہے۔ایک دکھ سے بظاہر رہائی پاتے ہی قوم ایک اور مصیبت کا شکار ہو جاتی ہے۔ان آیات میں عالمی امداد کے اس موجودہ 248