اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 246 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 246

ملا کر یوں صف بستہ ہو جاتے ہیں کہ ان کے درمیان کوئی خلا نہیں رہتا۔بہترین لباس میں ملبوس شخص کے پہلو میں ایک اور نمازی پھٹے پرانے کپڑے پہنے ہوئے نماز ادا کر رہا ہوتا ہے۔زرد چہروں والے نحیف و نزار لوگ اور صحت مند و توانا لوگ روزانہ پانچ بار ایک ایسی جگہ ایک دوسرے سے ملتے ہیں جہاں سب برابر ہوتے ہیں اور جہاں سے ہمیشہ اور بار بار اللہ اکبر کا پیغام دیا جاتا ہے۔اپنے علاقہ کے افراد سے بار بار مل کر اور لوگوں کے دکھ درد کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر نسبتا آرام و آسائش کی زندگی بسر کرنے والے کا دل متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔اس طرح اسے یہ احساس ہوتا ہے کہ لوگوں کی تکالیف کو کم کرنے اور ان کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لئے ضرور کچھ کرنا چاہئے۔اگر آپ ایسا نہیں کرتے تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک آپ کی عزت کم ہو جائے گی بلکہ آپ خود اپنی نظروں میں گر جائیں گے۔اس با ہمی رابطہ اور میل جول میں ہر جمعہ کے دن اور بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔اس روز تمام مسلمان ایک مرکزی مسجد میں اکٹھے ہوتے ہیں اور یوں غریب آبادیوں کے رہنے والوں اور امیر علاقوں کے لوگوں میں رابطہ پیدا ہوتا ہے۔سال میں دو عیدوں کے موقع پر یہ رابطہ وسیع تر ہو جاتا ہے۔عید الفطر سے پہلے غرباء کی مدد کے لئے فطرانہ دیا جاتا ہے جو ایک طوعی چندہ ہے۔(۳) رمضان کا مہینہ امراء اور غرباء کو ایک بار پھر ایک ہی صف میں لا کھڑا کرتا ہے۔اس مہینہ میں امراء بھی بھوک اور پیاس کی شدت برداشت کرتے ہیں اس طرح انہیں ان بے شمار لوگوں کی یاد دلائی جاتی ہے بھوک اور پیاس جن کی زندگی کا معمول ہے۔(۴) زکوۃ کے ذریعہ امراء کی دولت میں سے غرباء کا حق انہیں منتقل ہو جاتا ہے۔246