اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 290
روس کی سیاسی اور اقتصادی تشکیل نو ) اور گلاسنوسٹ (Glasnost) (یعنی حکومتی معاملات میں اظہار کی آزادی اور کھلا پن اور کٹر کمیونسٹوں کے مابین جاری کشمکش کا نتیجہ کیا ہو گا؟ یہ دیکھنے کے لئے ابھی کچھ اور انتظار کرنا پڑے گا۔جہاں تک مجھے علم ہے روس کے غیر طبقاتی معاشرہ میں اکثر مراعات کمیونسٹ پارٹی کے عہدہ داروں، نوکر شاہی اور مسلح افواج نے آپس میں بانٹی ہوئی ہیں۔اہم ترین سوال یہ ہے کہ اب جس انقلاب کے آثار ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں اور جو نازک مرحلہ در پیش ہے اس میں یہ سب لوگ کیا کردار ادا کریں گے۔روس میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کے عالمی امن پر امکانی اثرات کا اندازہ کرنے کے لئے پہلے ایسے تمام سوالات کا جواب دینا ضروری ہے۔دو بڑی طاقتوں کے مابین کشیدگی کی کمی سے امن کی امیدیں وابستہ نہیں کی جاسکتیں اس سے تو بالخصوص تیسری دنیا کے ممالک کئی قسم کے مہیب خطرات کی زد میں آگئے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ ان طاقتوں کے مابین پائی جانے والی بد اعتمادی کے باعث کمزور اقوام کو ایک قسم کا تحفظ ملا ہوا تھا۔ان حالات میں کمزور قو میں کم از کم اپنی وفاداریاں تو تبدیل کر سکتی تھیں ان کے بس میں اتنا تو تھا کہ وہ چاہیں تو مشرق کا رخ کر لیں اور چاہیں تو مغرب کی راہ اختیار کر لیں۔ان حالات میں وہ کچھ نہ کچھ ہوشیاری اور چالا کی سے بھی کام لے سکتے تھے اور کچھ سودے بازی بھی کر سکتے تھے لیکن بڑی طاقتوں کے ما بین محاذ آرائی کے خاتمہ سے اب صورت حال یکسر بدل گئی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ان کمزور اقوام کے پاس آزاد قوموں کی حیثیت سے باعزت طور پر زندہ رہنے کی کوئی امید باقی نہیں رہی۔لامحالہ اس مرحلہ پر ذہن اقوام متحدہ کی جانب منتقل ہو جاتا ہے۔اب لے دے کے بظاہر اقوام متحدہ ہی امن عالم کی واحد محافظ ہے اور دنیا میں کسی نظام نو (New World Order) کے قیام کے لئے امید کی واحد کرن ہے۔کاش یہ 290