اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 289 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 289

شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔یہ ایک بڑا نازک مگر عالمی امن کے قیام کے لئے بہت ضروری سوال ہے کہ اقوام متحدہ کسی ملک کے داخلی معاملات میں کس حد تک مداخلت کر سکتی ہے لیکن یہ بات طے ہے کہ اگر اقوام متحدہ کی پالیسی کامل انصاف پر مبنی نہ ہو اور سب قوموں کے ساتھ برابری کی بنیاد پر سلوک نہ کیا جائے تو اس صورت میں اقوام متحدہ کو مختلف ملکوں کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے مزید اختیارات دینے سے مسائل پیدا زیادہ ہوں گے اور حل کم ہوں گے۔پس یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس پر ٹھنڈے دل کے ساتھ غیر جانبدارانہ طور پر تفصیل سے غور ہونا چاہئے۔اب تک جو ہوا وہ یہ ہے کہ سوویت یونین اور مشرقی بلاک یہ اعتراف کرنے پر مجبور کر دیئے گئے ہیں کہ سائینٹیفک سوشلزم کے سب فلسفے ان کی زندگی کو بہتر بنانے میں ناکام ہو چکے ہیں۔اس اعتراف ناکامی سے صورت حال بے حد پیچیدہ ہوگئی ہے۔آئندہ واقعات عالم کیا رنگ اختیار کریں گئے یہ دیکھنے کے لئے ہمیں ابھی کچھ دیر اور انتظار کرنا پڑے گا۔ابھی ہم یہ نہیں جانتے کہ کیا سوشلزم کلیۂ پسپا ہو جائے گا اور کیا ساری دنیا سرمایہ دارانہ نظام کی طرف پاگلوں کی طرح سرپٹ دوڑ پڑے گی یا ایک ملے جلے مخلوط اقتصادی نظام کے نئے تجربات کئے جائیں گے۔ابھی ہمیں یہ علم نہیں ہے کہ کیا آمرانہ حکومتوں کا سخت گیر مرکزی کنٹرول ختم ہو جائے گا یا ایسی حکومتیں پارہ پارہ ہو جائیں گی جس کے نتیجہ میں انار کی اور طوائف الملوکی کی سی صورت حال پیدا ہو جائے گی۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آمرانہ حکومتوں کا کنٹرول رفتہ رفتہ فرد اور سیاست کے مابین' کچھ لو کچھ دو کی بنیاد پر ایک نئے مفاہمتی نظام میں تبدیل ہو جائے اور رفتہ رفتہ شہری آزادیاں واپس مل جائیں اور بنیادی انسانی حقوق کو بحال کر دیا جائے۔صدر گوربا چوف کے نظریات پر سٹرائیکا (Perestroika) (یعنی 289