اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 291 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 291

امید بر آئے۔لیکن حقائق کو قریب سے اور ناقدانہ نظر کے ساتھ دیکھا جائے تو ایک تاریک، مایوس کن اور مہیب تصویر ابھرتی ہے۔کیا یہ حقیقت نہیں کہ اب دنیا میں طاقت کا جو نیا توازن پیدا ہوا ہے اس میں اقوام متحدہ کے نظام کو چلانے والی عظیم عالمی طاقت عملاً ایک ہی ہو گی ؟ ان حالات میں چھوٹی اور کمزور اقوام کا مقدر اس جانور کا سا ہی ہو سکتا ہے جسے چاروں طرف سے شکاریوں نے گھیر لیا ہو اور اس کے لئے کوئی راہ فرار باقی نہ رہ گئی ہو۔موجودہ صورت حال میں اقوام متحدہ کے متعلق یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ یہ وہ طاقتور تنظیم ہے جو انصاف کے لئے نہیں بلکہ اس قوم کے سیاسی مقاصد کی خاطر کام کرتی ہے جس کا حلقہ اثر سب سے وسیع ہو۔مجھے یاد نہیں کہ اقوام متحدہ کے حالیہ فیصلوں میں حق اور باطل کے تصور نے کبھی کوئی با معنی کردار ادا کیا ہو اور نہ ہی اس کے موجودہ نظام کو دیکھتے ہوئے مستقبل کے متعلق کوئی امید کی جاسکتی ہے۔عصر حاضر میں سیاست اور ڈپلومیسی یوں لازم وملزوم ہو چکی ہیں کہ عدل و انصاف کے قیام اور اس کی بقاء کا کوئی امکان ہی باقی نہیں رہا۔اس تلخ حقیقت کا کوئی انسان جس کے دل میں سچ کا احترام باقی ہے انکار نہیں کر سکتا کہ سیاست جیسا عظیم اور قابل احترام ادارہ اب محض پیچ در پیچ ڈپلومیسی، جتھہ بندی، خفیہ تعلقات اور حصول اقتدار کے لئے کی جانے والی ریشہ دوانیوں کا نام رہ گیا ہے اور ستم یہ ہے کہ یہ سب کچھ عالمی امن کے نام پر ہو رہا ہے۔قرآن کریم کے نزدیک دنیا کو آج ایک ایسے ادارہ کی ضرورت ہے جس کا کام صرف عدل اور انصاف کو قائم کرنا ہو کیونکہ عدل و انصاف کے قیام کے بغیر امن کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔بزعم خود امن اور آزادی ضمیر کے نام پر جنگ تو برپا کی جاسکتی ہے مگر اس کا نتیجہ سوائے ہلاکت اور بربادی کے کچھ اور نہیں نکل سکتا۔افسوس تو 291