اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 279 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 279

ہے کہ تمام قانون سازی مذاہب کے تابع ہو۔جب صورتحال یہ ہے کہ بالکل مختلف عقائد رکھنے والے فرقے موجود ہیں اور پھر ہر فرقہ آگے کئی شاخوں میں منقسم ہے، ہر مذہب دوسرے مذہب سے مختلف عقائد رکھتا ہے تو اس صورت میں قانون سازی کو مذہب کے تابع کرنے کا نتیجہ سوائے ابتری کے اور کیا ہوسکتا ہے۔مثال کے طور پر شراب نوشی کی سزا ہی کو لے لیجئے۔اگر چہ قرآن کریم نے شراب کو حرام قرار دیا ہے لیکن قرآن کریم نے اس کی کوئی معین سزا بیان نہیں کی۔اس کے لئے کچھ ایسی روایات پر انحصار کیا گیا ہے جو بعض مکاتب فقہ کے نزدیک درست ہی نہیں۔اب اس اختلاف کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ایک علاقہ یا ملک میں شراب نوشی کی سزا کچھ اور ہوگی اور دوسرے علاقہ یا ملک میں کچھ اور۔پس عوام الناس کو پتہ ہی نہیں چلے گا کہ اصل قانون کون سا ہے؟ صرف اسلام ہی نہیں باقی مذاہب کو بھی ایسی ہی صورت حال در پیش ہوگی۔طالمود کا دیا ہوا قانون بھی بالکل نا قابل عمل بن کر رہ جائے گا اور یہی حال عیسائیت کی دی ہوئی تعلیم کا ہوگا۔بات یہ ہے کہ ملکی قانون کے اندر رہتے ہوئے کسی بھی مذہب کا پیروکار اپنے مذہبی عقائد کے مطابق زندگی گزار سکتا ہے۔وہ سچ بول سکتا ہے ریاست کا قانون اسے سچ بولنے سے منع نہیں کرتا۔وہ اپنی عبادات بجا لا سکتا ہے اس بات کی چنداں ضرورت نہیں کہ ریاست اسے ایسا کرنے کی اجازت دینے کے لئے کوئی خاص قانون بنائے۔اس سوال کا ایک اور دلچسپ زاویہ سے بھی جائزہ لیا جا سکتا ہے۔اگر اسلام یہ کہتا ہے کہ جن ممالک میں مسلمان اکثریت میں ہوں وہاں حکومت اسلامی اکثریت کی ہونی چاہئے تو پھر کامل انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ دوسرے ممالک کو بھی یہ حق دیا جائے کہ وہاں کی مذہبی اکثریتیں اپنے اپنے مذہب کے احکامات کے مطابق امور 279