اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 280 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 280

مملکت بجالائیں۔پاکستان کو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ اس کے قریبی ہمسایہ ملک بھارت میں ہندو قانون ملکی قانون کی حیثیت سے رائج ہو اور تمام شہریوں پر یکساں لاگو ہو۔حقیقت یہ ہے کہ جس دن ایسا ہوا وہ دن بھارت کے دس کروڑ مسلمانوں کے لئے ایک المناک دن ہوگا کیونکہ اس دن وہ سب کے سب بھارت میں باعزت طور پر زندہ رہنے کے تمام حقوق سے محروم کر دیئے جائیں گے۔پھر یہ کہ اگر بھارت میں منوسمرتی کے مطابق حکومت بن سکتی ہے تو اسرائیل کو یہ حق کیوں نہیں دیا جا سکتا کہ وہ بھی اپنے ملک میں یہود اور غیر یہود دونوں پر طالمود کے قانون کے مطابق حکومت کرے اگر واقعہ ایسا ہوا تو نہ صرف اسرائیل کے رہنے والے غیر یہودی شہریوں کے لئے بلکہ خود یہودیوں کی ایک بڑی تعداد کے لئے بھی زندگی ایک عذاب بن کر رہ جائے گی۔مختلف ممالک میں مذہبی حکومتوں کے قیام کا تصور تبھی درست ہو گا اگر ساتھ ہی یہ بھی تسلیم کیا جائے کہ جن ممالک میں مسلمان اکثریت میں ہیں وہاں اسلامی ریاست میں شریعت کو جبراً ڈنڈے کے زور سے نافذ کر دیا جائے۔مگر اس طرح پھر دنیا بھر کو ایک متناقض صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ ایک طرف تو کامل انصاف کے نام پر تمام ممالک کو یہ حق دیا جائے گا کہ وہ اپنے عوام پر اکثریت کے مذہب کا قانون مسلط کر دیں، دوسری طرف ہر ملک میں مذہبی اقلیتوں سے ان کے ہر فعل پر اکثریت کے مذہبی قانون کے مطابق مواخذہ کیا جائے گا جس پر وہ ایمان ہی نہیں رکھتیں۔پس کیا یہ صورتحال کامل انصاف کے ساتھ اسلامی تصور کی رسوائی کا موجب نہیں ہو گی ؟ اسلامی شریعت کے نفاذ کی باتیں کرنے والوں نے اس الجھن اور مخمصہ کے متعلق نہ تو کبھی سوچا ہے اور نہ اسے حل کرنے کی کوشش کی ہے۔میرے نزدیک اسلامی تعلیم کا لب لباب یہ ہے کہ امور مملکت کو چلانے کے لئے بنیادی اصول یہ ہے کہ سب کے ساتھ یکساں اور کامل انصاف کرنا ہے۔اگر اس 280