اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 278
رکھتا ہے۔افسوس کہ امور سیاست سے متعلق اسلامی نظریہ کے اس اہم ترین نکتہ کو سیاسی مفکرین نے اگر کچھ سمجھا بھی ہے تو بہت کم۔عام نوعیت کے جرائم اور کسی خاص مذہبی حکم سے تعلق رکھنے والے جرائم پر قانون کے اطلاق میں جو فرق ہے وہ اسے نہیں سمجھ سکتے۔ظاہر ہے کہ مؤخر الذکر جرائم کی سزا انہیں لوگوں پر نافذ ہو گی جو اس مذہب کے ماننے والے ہیں۔دراصل جرائم کی ان ہر دو اقسام کی معین اور واضح تعریف نہیں کی گئی ہے۔جرم وسزا کی دنیا میں کئی مشترکہ مقامات ایسے ہیں جہاں عمومی نوعیت کے جرائم بظاہر مذہبی اور اخلاقی جرائم بھی دکھائی دیتے ہیں اور عام طور پر تسلیم شده انسانی قدروں کے لحاظ سے بھی جرم بن جاتے ہیں۔مثال کے طور پر چوری ایک ایسا جرم ہے جس کی بعض معاشروں میں زیادہ اور بعض میں کم مذمت کی جاتی ہے۔بعض جگہ چوری کی سزا بڑی سخت ہے مگر بعض جگہ اتنی سختی نہیں کی جاتی۔اسی طرح قتل، شراب نوشی اور دنگا فساد جیسے جرائم ہیں جن کو بعض مذاہب نے جزوی طور پر یا کلیہ ممنوع قرار دیا ہے اور بعض نے ان جرائم کی معین سزائیں بھی تجویز کی ہیں۔اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حکومت کو ایسے جرائم سے کس طرح نپٹنا ہوگا۔پھر اسی سے یہ سوال بھی ابھرتا ہے کہ کیا اسلام نے اس سلسلہ میں ایک مسلم یا غیر مسلم حکومت کو کوئی واضح اور معتین لائحہ عمل دیا ہے؟ اگر اسلام نے حکومت کی کوئی معین شکل پیش کی ہے تو پھر کئی ایک اور اہم سوالات بھی پیدا ہوں گے۔مثلاً یہ کہ کیا کوئی ایسی مملکت ہو سکتی ہے جو خود کو کسی خاص مذہبی تعلیم کے تابع خیال کرے اور کیا یہ جائز ہوگا کہ ایسی حکومت اس مذہبی تعلیم کو اپنے تمام شہریوں پر نافذ کرے خواہ وہ اس مذہب سے تعلق رکھتے ہوں یا نہ رکھتے ہوں۔بات یہ ہے کہ مذہب کا فرض قانون سازی کرنے والوں کی توجہ اخلاقی مسائل کی طرف مبذول کرانا ہے۔یہ ہرگز ضروری نہیں 278