اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 15 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 15

اعلان کرتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی صفات حسنہ کے لحاظ سے بلند ترین مقام پر فائز ہیں اور آپ ہی افضل الرسل ہیں۔مگر یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اسلام کے اس دعوئی اور دوسرے مذاہب کے دعاوی میں ایک بڑا واضح اور بنیادی فرق ہے۔اول تو یہ بات پیش نظر رہنی چاہئے کہ صرف اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جو نبوت کی آفاقیت کو تسلیم کرتا ہے۔اسلام کے نزدیک دنیا کی ہر قوم اور خطہ میں انبیاء مبعوث ہوتے رہے ہیں۔لیکن مثال کے طور پر یہود عہد نامہ قدیم میں مذکور انبیاء کرام کے علاوہ دوسرے انبیاء کو تسلیم ہی نہیں کرتے۔چنانچہ جب وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے عظیم ترین نبی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کا موازنہ حضرت بدھ علیہ السلام سے نہیں کر رہے ہوتے۔وہ تو عظیم بانیان مذاہب کے دعوئی ہی کو تسلیم نہیں کرتے۔ان کے نزدیک مذکورہ بالا تمام انبیاء برحق نہیں ہیں۔یہاں تک کہ ان کے خیال کے مطابق یہ امر ناممکن ہے کہ ان کے مسلمہ انبیاء کے علاوہ بھی کوئی نبی ہو۔پس ایک طرف تو یہود کے اپنے مسلمہ انبیاء میں سے کسی ایک نبی کی فضیلت کا عقیدہ ہے اور دوسری طرف اسلام کا دعویٰ کہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم افضل ترین نبی ہیں، یہ دونوں دعاوی اپنی نوعیت کے لحاظ سے بالکل مختلف ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ یہودیت کی تعلیم کے مطابق بائبل میں مذکور انبیاء کے علاوہ دوسرا کوئی نبی موجود ہی نہیں ہے۔جبکہ اسلام سب قوموں میں سچے انبیاء کے مبعوث کئے جانے کی تعلیم دیتا ہے۔یہودیت کی طرح بدھ ازم، زرتشت ازم اور ہندو ازم وغیرہ سب مذاہب کے ایسے دعاوی کی بالکل یہی صورت ہے۔ایک فرق اور بھی ہے جسے ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔نبیوں اور رسولوں کا جو 15