اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 16
تصور یہودیت، عیسائیت اور اسلام میں پایا جاتا ہے دیگر اکثر مذاہب کے ہاں پایا جانے والا تصور اس سے بالکل مختلف ہے۔وہ اپنے مقدس مذہبی وجودوں کو ہمیشہ صرف خدا کا فرستادہ ہی نہیں سمجھتے بلکہ ان کے نزدیک ان کے مذاہب کے بانی عام انسانوں سے بالاتر اپنی ذات میں مقدس وجود ہیں۔بعض کے نزدیک وہ خدا کے اوتار ہیں۔یہاں تک کہ بعض کو خدا ہی قرار دیا جاتا ہے۔یا پھر یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ مقدس مذہبی لوگ رفتہ رفتہ خدائی کے مقام تک پہنچنے والے کوئی ممتاز وجود ہیں۔عیسائیت نے حضرت عیسی علیہ السلام کے ساتھ بھی کچھ ایسے ہی تصورات وابستہ کر رکھے ہیں۔اس لئے وہ بھی اس ذیل میں آجاتے ہیں۔مگر اسلام کی تعلیم کے مطابق ایسے تمام خدا یا خدا کے بیٹے اور بچے اور خدا کے اوتار سب نام نہاد اور فرضی باتیں ہیں۔درحقیقت یہ لوگ صرف خدا تعالیٰ کے بھیجے ہوئے انبیاء ہیں جنہیں ان کے ماننے والوں نے بہت بعد میں خدائی کے درجہ تک پہنچا دیا۔مذاہب میں انبیاء کو دیوتا بنانے کا یہ عمل بتدریج واقع ہوتا ہے۔ایسے عقائد ایک نبی کے زمانہ میں اچانک جنم نہیں لیا کرتے۔بلکہ یہ تصورات رفتہ رفتہ تشکیل پاتے ہیں۔اس موضوع پر تو ہم آگے چل کر مزید تفصیل سے بات کریں گے۔سردست یہ بتانا مقصود ہے کہ اسلام جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جملہ انبیاء پر فضیلت کا اعلان کرتا ہے تو تمام مذاہب کے مقدس وجود انبیاء کے زمرہ میں نبوت کے اس تصور کے مطابق شامل ہوتے ہیں جو یہودیت اور اسلام کا ہے۔یہاں یہ بات دہرانی مناسب ہوگی کہ تمام الہامی مذاہب کے بانیوں کے متعلق اسلام کا عقیدہ کیا ہے؟ اسلام کے نزدیک وہ سب انسان ہی تھے جنہیں خدا تعالیٰ نے نبوت کے منصب پر فائز کر کے دنیا میں مبعوث فرمایا۔مختلف زمانوں اور مختلف علاقوں میں جہاں کہیں بھی انبیاء آئے بلا استثناء وہ سب انسان ہی تھے۔جیسا کہ قرآن کریم بیان فرماتا ہے۔16