اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 221 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 221

ایک طرف سیاسی رہنماؤں نے عوام کے بلند معیار زندگی کو قائم رکھنا ہوتا ہے اور دوسری طرف انہیں یہ فکر دامن گیر ہوتی ہے کہ صنعتی زوال نہ ہو اور نظام معیشت چلتا رہے پس ملکی مصنوعات کی فروخت کے لئے زیادہ سے زیادہ بیرونی منڈیاں تلاش کی جاتی ہیں۔ترقی یافتہ ممالک کے بلند معیار زندگی کو قائم رکھنے کے لئے تیسری دنیا کے ممالک کا پہلے سے بڑھ کر خون چوسا جاتا ہے۔روس اور مشرقی یورپ کے ممالک کو اپنے معاشی نظام کی تشکیل نو کے لئے جو چیلنج درپیش ہیں وہ اور کیا ہیں؟ سابقہ اشترا کی دنیا سے ابھرنے والے نئے سرمایہ دار ممالک کو بیرونی منڈیوں کی بڑھتی ہوئی ضرورت آخر کیوں ہے؟ اور پھر مغربی ذرائع ابلاغ نے اپنی مصنوعات کی تشہیر کے ذریعہ جس طرح تیسری دنیا اور سوشلسٹ ممالک کے مفلس و قلاش عوام کی خواہشات اور تمناؤں کو بے چین اور مضطرب کر رکھا ہے کیا اس کا یہی مقصد تو نہیں ہے؟ ان تمام عوامل کو یکجا کر کے دیکھیں تو معلوم ہو جائے گا کہ یہ حالات کرہ ارض پر کسی مثبت تبدیلی کے آئینہ دار ہر گز نہیں ہیں۔سود۔امن کے لئے ایک خطرہ قرآن کریم آج سے چودہ سو سال قبل اس عظیم تباہی کے متعلق خبر دار کر چکا ہے جو سود پر مبنی معاشی نظام کی وجہ سے بالآخر بنی نوع انسان کے لئے مقدر ہو چکی ہے۔یہ تنبیہ بڑی وضاحت سے اور بھر پور انداز میں ان آیات کریمہ میں موجود ہے۔الَّذِينَ يَا كُلُوْنَ الرّبوا لَا يَقُومُونَ إِلا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَنُ مِنَ الْمَسِ، ذلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبوا، وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ ط -- وج الربوا ، فَمَنْ جَاءَ ، مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّهِ فَانْتَهَى فَلَهُ مَا سَلَفَ وَأَمْرَهُ إِلَى الله۔ج لو وَمَنْ عَادَ فَأُولَئِكَ أَصْحَبُ النَّارِ هُم فِيْهَا خَلِدُوْنَه يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبوا وَيَرْبِي b 221