اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 222
الصَّدَقَتِ، وَاللهُ لا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارِ أَثِيمٍ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ و أَقَامُوا الصَّلوةَ وَاتَوُ الزَّكوةَ لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُم يَحْزَنُونَ ، يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَذَرُوا مَابَقِيَ مِنَ الرِّبوا إِنْ كُنتُمْ آرد لله و وہ وہ 0-600 مُّؤْمِنِينَ ، فَإِنْ لَّمْ تَفْعَلُوا فَأذَنُوا بِحَرْبٍ مِّنَ اللهِ وَرَسُولِهِ ، وَ إِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ ووه و رء وسُ أَمْوَالِكُمْ لا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ وَ إِنْ كَانَ ذُو عُسْرَةِ فَنَظِرَةٌ إِلَى مَيْسَرَةِ ، وَ أَنْ تَصَدَّقُوا خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنتُمْ تَعْلَمُونَ تک وہ ° (سورۃ البقرہ آیات ۲۷۶-۲۸۱) ترجمہ :۔وہ لوگ جو سود کھاتے ہیں وہ کھڑے نہیں ہوتے مگر ایسے جیسے وہ شخص کھڑا ہوتا ہے جسے شیطان نے (اپنے) مسن سے حواس باختہ کر دیا ہو۔یہ اس لئے ہے کہ انہوں نے کہا یقیناً تجارت سود ہی کی طرح ہے جب کہ اللہ نے تجارت کو جائز اور سود کو حرام قرار دیا ہے۔پس جس کے پاس اس کے رب کی طرف سے نصیحت آ جائے اور وہ باز آ جائے تو جو پہلے ہو چکا وہ اسی کا رہے گا اور اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔اور جو کوئی دوبارہ ایسا کرے تو یہی لوگ ہیں جو آگ والے ہیں۔وہ اس میں لمبا عرصہ رہنے والے ہیں۔اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے اور اللہ ہر سخت ناشکرے (اور ) بہت گناہگار کو پسند نہیں کرتا۔یقیناً وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک اعمال بجا لائے اور انہوں نے نماز کو قائم کیا اور زکوۃ دی ان کے لئے ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے۔اور ان پر کوئی خوف نہیں ہو گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرو اور چھوڑ دو جو سود میں سے باقی رہ گیا ہے اگر تم ( فی الواقعہ ) مومن ہو۔اور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلان جنگ سن لو اور اگر تم تو بہ کرو تو تمہارے 222