اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 220
بہت جلد گرم ہو جاتا ہے مگر جھیلوں کا پانی گرم ہونے میں کچھ وقت لگتا ہے اسی طرح چھوٹے سمندر بڑے سمندروں کی نسبت جلد گرم ہو جاتے ہیں۔سورج کی تمازت سے پانی کا درجہ حرارت بہر حال بڑھتا ہے یہ ایک ناگزیر اور اٹل قانون ہے فرق صرف وقت کا ہے۔بحر اوقیانوس کے پانیوں کو گرم ہونے میں اتنا زیادہ وقت لگتا ہے کہ جب تک یہ پوری طرح گرم ہوتے ہیں اس کے ساحلوں پر واقع اکثر ممالک میں موسم سرما کا آغاز ہو چکا ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ان ممالک کی آب و ہوا ان ممالک کی نسبت معتدل ہے جو چھوٹے سمندروں کے گرد واقع ہیں۔ملکوں کی معیشت کا معاملہ بھی سمندروں کی طرح ہے۔قرض لے کر خرچ کرنے کا فلسفہ بنیادی طور پر اتنا ٹیڑھا اور غلط ہے کہ اس سے صحیح اور درست نتائج کی توقع رکھنا حماقت ہے۔ایک اور اہم اور قابل توجہ امر یہ ہے کہ ترقی یافتہ اور صنعتی ممالک کی معیشت اور صنعت کے زوال کا اثر غریب اور نسبتا کم ترقی یافتہ ممالک کی معیشت پر بھی پڑتا ہے اور یہ ممالک بھی ایک مسلسل بڑھتے ہوئے مہیب خطرے کا شکار ہو جاتے ہیں۔صنعتی ممالک کے سیاسی لیڈر ایک تو اپنی صنعت کو زوال سے بچانے کے لئے اپنی برآمدات کو بڑھانا چاہتے ہیں دوسرے وہ اپنے عوام کا معیار زندگی بھی قائم رکھنا چاہتے ہیں۔ان ترقی یافتہ صنعتی ممالک کے سیاسی لیڈروں کی اپنی مجبوریاں ہیں۔ایک تو ان کے عوام جدید سہولتوں کے عادی ہو چکے ہیں اور ان کا معیار زندگی اتنا بلند ہو گیا ہے کہ اسے برقرار رکھنے کے لئے کئی پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں دوسرے یہ صنعت اپنی بقا کے لئے زندگی کی تعیشات اور نئی سے نئی ایجادات کی تشہیر کرتی رہتی ہے جس سے عوام کی آتش شوق اور بھی بھڑکتی ہے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بلند سے بلند تر معیار زندگی کا مطالبہ بڑھتا چلا جاتا ہے۔اس مطالبہ کے مسلسل دباؤ کے سامنے کوئی سیاسی حکومت ٹھہر نہیں سکتی۔220