اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 116
ہر غیر متعصب شخص بآسانی سمجھ سکتا ہے کہ ایسے تمام مسائل کا حل یہی ہے کہ مردوں کو ایک سے زیادہ شادیاں کرنے کی اجازت دی جائے۔یہ حل مردوں کی جنسی خواہشات کی تسکین کی خاطر تجویز نہیں کیا گیا ہے بلکہ عورتوں کی ایک بڑی تعداد کے فطری انسانی تقاضوں کو پورا کرنا ہی اس کا اصل مقصد ہے۔اگر اس انتہائی معقول اور حقیقت پسندانہ حل کو مسترد کر دیا جائے تو پھر معاشرہ کیلئے یہی ایک متبادل راستہ رہ جاتا ہے کہ وہ تیزی سے بگاڑ اور بے راہ روی کا شکار ہو جائے اور قعر مذلت میں گرتا چلا جائے۔افسوس صد افسوس کہ مغرب یہی راستہ اختیار کر چکا ہے۔۔اگر آپ زیادہ حقیقت پسندی سے اور غیر جذباتی ہو کر ایک بار پھر ان دو راستوں کا جائزہ لیں تو یقیناً یہ حقیقت کھل کر سامنے آجائے گی کہ تعدد ازدواج مردوزن میں مساوات کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ تو ایک بھاری ذمہ داری اٹھانے یا نہ اٹھانے کا سوال ہے۔یاد رہے کہ اسلام ایک سے زیادہ شادیاں کرنے کی اجازت صرف اس شرط پر دیتا ہے کہ مرد پوری ذمہ داری کے ساتھ یہ مشکل چیلنج قبول کرے کہ وہ دوسری تیسری یا چوتھی بیوی کے ساتھ پورے انصاف سے کام لے گا اور مساوی سلوک کرے گا۔قرآن کریم اس کے متعلق فرماتا ہے۔- واس 10- وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتمى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَتُلْكَ وَ رُبع = فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ذَلِكَ أَدْنَى ( سورة النساء آیت ۴) أَلَّا تَعُولُوا ترجمہ۔اور اگر تم ڈرو کہ تم یتامیٰ کے بارہ میں انصاف نہیں کر سکو گے تو عورتوں میں سے جو تمہیں پسند آ ئیں ان سے نکاح کرو۔دو دو اور تین تین اور چار چار۔لیکن اگر تمہیں خوف ہو کہ تم انصاف نہیں کر سکو گے تو پھر صرف ایک (کافی ہے ) یا وہ جن کے تمہارے داہنے ہاتھ مالک ہوئے۔یہ ( طریق) قریب تر ہے کہ تم نا انصافی سے بچو۔116