اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 115 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 115

تو حاصل نہیں ہو سکتا۔نہ ہی فطری خواہشات کا انکار کر کے خود کو سزا دینے کا کوئی مفید -Ch نتیجہ نکل سکتا ہے۔در حقیقت اسلام کا ازدواجی نظام بہت مضبوط بنیادوں پر استوار کیا گیا ہے۔وقت کی کمی کے باعث یہ ممکن نہیں کہ اصل موضوع سے ہٹ کر ان امور پر بات کی جائے کہ جیون ساتھی کے انتخاب سے متعلق اسلامی تقاضے کیا ہیں اور دیگر متعلقہ امور مثلاً طلاق کے قواعد وضوابط کیا ہیں اور ایسے مسائل کا اسلام کیا حل تجویز کرتا ہے؟ اب ہم تعدد ازدواج کے مضمون کی طرف واپس آتے ہیں۔قرآن کریم کے مطالعہ سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ تعدد ازدواج سے متعلق آیات کے پس منظر میں زمانہ جنگ کے بعد کے مخصوص حالات کا ذکر ہو رہا ہے۔جنگ کے بعد بہت سے یتیم بچے اور جوان بیوائیں باقی رہ جاتی ہیں۔مردوں اور عورتوں کی آبادی کا تناسب بگڑ جاتا ہے۔دوسری جنگ عظیم کے بعد جرمنی بھی ایک ایسی ہی صورت حال سے دوچار تھا جس کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی مشکلات کا کوئی حل نظر نہیں آتا۔زندگی بھر ایک وقت میں ایک ہی شادی کرنے کی عیسائیت کی سخت تعلیم اس مسئلہ کا حل پیش کرنے سے قاصر تھی۔جرمنی میں چونکہ اسلام غالب اکثریت کا مذہب نہیں تھا اس لئے وہاں کے باشندوں کو آبادی کے اس عدم تناسب کے بد نتائج بھگتنے پڑے۔بہت بڑی تعداد میں کنواری لڑکیاں اور جوان بیوہ عورتیں ایسی تھیں کہ مایوسیاں جن کا مقدر بن گئیں۔شادی ان کے لئے ایک ایسا خواب بن کر رہ گئی جس کی تعبیر ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی تھی۔براعظم یورپ میں اتنے وسیع پیمانے پر صرف جرمنی ہی ان خطر ناک معاشرتی مسائل سے دوچار نہیں ہوا بلکہ جنگ کے بعد آنے والا اخلاقی تنزل اور جنسی بے راہ روی کا سیلاب سارے مغربی معاشرے کو بہا کر لے گیا۔ان برائیوں کے پھیلنے کی وجہ مردوں اور عورتوں کی آبادی کا عدم تناسب بھی تھا۔115