اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 107 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 107

کرے۔زندگی کے تمام معاملات میں اسے مردوں کے مساوی حقوق عطا کئے گئے۔اسلام سے پہلے عورتیں وراثت میں تقسیم ہوا کرتی تھیں مگر اب عورت نہ صرف اپنے باپ کی جائیداد کی وارث ہو سکتی تھی بلکہ اپنے خاوند بچوں اور دیگر رشتہ داروں کی جائیداد کی شرعاً وارث قرار دی گئی۔اب وہ دلیری کے ساتھ اپنے خاوند کی رائے سے اختلاف کر سکتی تھی۔بے خوف و خطر اس سے بحث کر سکتی تھی اور اسے اپنی رائے پر قائم رہنے کا پورا حق حاصل تھا۔اب صرف عورت ہی کو طلاق نہیں دی جا سکتی تھی بلکہ عورت چاہے تو وہ مرد کو طلاق دے سکتی تھی۔عورت کو بحیثیت ماں اسلام نے جس تعظیم و تکریم کا مستحق ٹھہرایا ہے دنیا کے دوسرے معاشروں میں اس کی مثال ملنی محال ہے۔حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات تھی جس نے حقوق نسواں کے قیام کے لئے وحی الہی کے ماتحت یہ اعلان فرمایا۔" 66 ” تمہاری جنت تمہاری ماؤں کے قدموں تلے ہے اس ارشاد میں آپ نے صرف اس جنت ہی کے وعدہ کا ذکر نہیں فرمایا جو آئندہ زندگی میں پورا ہوگا بلکہ ایک ایسی معاشرتی جنت کا ذکر بھی کیا ہے جس کا وعدہ ان لوگوں سے ہے جو اپنی ماؤں کے ساتھ انتہائی عزت و احترام سے پیش آتے ہیں اور انہیں ہر ممکن راحت اور آرام پہنچانے کے لئے کوشش کرتے رہتے ہیں۔پردہ سے متعلق اسلامی تعلیم کو اسی سیاق و سباق میں سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔اسلام یہ تعلیم اس لئے نہیں دیتا کہ مرد کو عورت پر کوئی مزعومہ برتری یا فوقیت حاصل ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے یہ تعلیم اس لئے دی ہے تا کہ گھر یعنی چادر اور چار دیواری کا تقدس قائم ہو خاوند بیوی کے درمیان باہمی اعتماد کی فضا پروان چڑھے اور طبعی خواہشات اور جذبات کو اعتدال پر لایا جائے اور انہیں معاشرہ میں یوں بے لگام نہ چھوڑ دیا جائے کہ وہ ایک خوفناک عفریت بن کر رہ جائیں بلکہ انہیں اس طرح قابو 107