اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 106
تھی۔مذہبی علماء کا اس کے متعلق جو بھی نظریہ ہو یہ امر واقعہ ہے کہ پردہ کے متعلق اسلام کی تعلیم کا عربوں کے مروجہ طریق سے دور کا بھی تعلق نہیں۔اسلام کے ظہور کے وقت عرب معاشرہ عورتوں کے متعلق بہت متضاد رویوں کا حامل تھا۔ایک طرف جنسی آزادی اور عورتوں اور مردوں کا آزادانہ میل جول تھا جبکہ شراب عورت اور گانے بجانے کا جنون اس معاشرہ کی نمایاں خصوصیات تھیں اور دوسری جانب لڑکی کی پیدائش کو سخت بے عزتی اور شرم کا باعث سمجھا جاتا تھا۔بعض عرب لوگوں نے فخر سے بیان کیا ہے کہ انہوں نے اس ذلت سے بچنے کے لئے اپنی نوزائیدہ بیٹیوں کو زندہ درگور کر دیا۔عورت کی حیثیت جائیداد منقولہ سے بڑھ کر نہیں تھی۔اسے یہ حق حاصل نہیں تھا کہ وہ اپنے خاوند یا باپ یا خاندان کے کسی دوسرے فرد سے اختلاف کر سکے۔ا بے شک اس عام روش سے ہٹ کر استثنائی مثالیں بھی ملتی ہیں۔کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا تھا کہ شاندار قائدانہ صلاحیتیں رکھنے والی عورت اپنے قبیلہ میں ایک نمایاں مقام حاصل کر لے۔اسلام نے اس ساری معاشرتی صورت حال کو یکسر تبدیل کر دیا اور یہ تبدیلی کسی معاشرتی کشیدگی اور تناؤ کے نتیجہ میں پیدا ہونے والا طبعی رد عمل نہیں تھا بلکہ اسلام نے حکم اور عدل کے طور پر نئی اقدار دنیا میں قائم فرما ئیں۔ایک نیا سماجی نظام بذریعہ وحی الہی عطا کیا گیا۔یہ نیا نظام ان محرکات کا مرہون منت نہیں تھا جو عموماً معاشرہ کی تشکیل کیا کرتے ہیں۔پردہ کی تعلیم کے نتیجہ میں جنسی بے راہ روی فوری طور پر رک گئی۔مرد اور عورت کے تعلقات کو ایک ایسے نظام کا پابند بنا دیا گیا جو پائیدار اور اخلاقی اصولوں پر مبنی تھا۔اس کے ساتھ ساتھ عورت کے مقام اور مرتبہ کو اتنا بلند کر دیا گیا کہ یہ ممکن ہی نہ رہا کہ کوئی اسے بے بس اور بے جان مخلوق سمجھ کر اس سے اشیائے صرف کا سا سلوک 106