اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 108 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 108

میں لایا جائے جس سے وہ فطرت کی دیگر منظم قوتوں کی طرح ایک تعمیری کردار ادا کرسکیں۔پردہ کی اس اسلامی تعلیم کے متعلق بڑی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔اسے ایک ایسی پابندی تصور کیا جاتا ہے جس کے نتیجہ میں خواتین زندگی کے جملہ شعبوں میں بھر پور شمولیت سے محروم ہو جائیں۔حالانکہ یہ بات ہرگز ہرگز درست نہیں ہے۔پردہ کے اسلامی تصور کو سمجھنے کے لئے اس کے مقصد کو سمجھنا بے حد ضروری ہے۔پردہ کا مقصد یہ ہے کہ عورت کی عزت اور عصمت کے تقدس کی حفاظت کی جائے اور معاشرہ میں اس کے احترام کو قائم کیا جائے۔پردہ ان خطرات کے خلاف تحفظ فراہم کرتا ہے جن سے عورت کی عزت و عصمت پر حرف آ سکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اسلامی معاشرہ میں نامحرم مرد اور عورت کے آزادانہ میل جول اور تعلقات اور معاشقوں کی سختی سے حوصلہ شکنی کی گئی ہے۔مرد اور عورت کو نہ صرف بدنظری سے روکا گیا ہے بلکہ ایسے تمام مناظر کو دیکھنے اور جسمانی قرب بلکہ لمس تک سے منع کیا گیا ہے جس کے نتیجہ میں ایسے منہ زور جذبات برانگیختہ ہو جائیں جن پر قابو پانا عام انسان کے بس میں نہ ہو۔عورتوں سے یہ توقع کی گئی ہے کہ وہ اپنے جسم کو عمدگی کے ساتھ ڈھانپ کر رکھیں گی۔انہیں یہ نصیحت کی گئی ہے کہ وہ ایسا انداز اور ایسا رنگ ڈھنگ اختیار نہ کریں جس کے نتیجہ میں کسی آوارہ مزاج مرد کو بری نظر سے دیکھنے کا موقع مل سکے۔بناؤ سنگھار کرنا اور زیورات پہنا ممنوع نہیں ہے لیکن گھر سے باہر نامحرم مردوں کی توجہ حاصل کرنے کے لئے زیب و زینت اختیار کرنا درست نہیں ہے۔ہم یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ دنیا بھر میں موجودہ معاشرتی مزاج اور اطوار کے لحاظ سے یہ تعلیم سخت دکھائی دیتی ہے۔اس میں بہت سی پابندیاں ہیں اور بظاہر یہ بے رنگ اور بے کیف سی نظر آتی ہے تاہم اسلام کے سارے سماجی نظام کے بنظر غائر مطالعہ 108