اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 35 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 35

ذیلی تعلیم جو دائی اور بنیادی اصولوں پر مبنی تھی اپنی آخری مکمل اور افضل ترین شکل میں ایک کامل مذہب یعنی اسلام کے ایک حصہ کے طور پر نازل کر دی گئی۔پرانی تعلیمات کا وہ حصہ جو علاقائی اور وقتی نوعیت کا تھا اسے حذف کر دیا گیا اور تعلیمات کا وہ حصہ جس کی آئندہ بھی ضرورت تھی اسے برقرار رکھا گیا اور قرآن کریم کے ذریعہ دنیا کو پھر سے عطا کر دیا گیا۔مذہب کے عالمگیر ہونے کے متعلق اسلامی نظریہ کا لب لباب یہی ہے اور انہیں معنوں میں اسلام ایک آفاقی مذہب ہے۔اب یہ لوگوں کا کام ہے کہ وہ تحقیق کریں اور اس امر کا تقابلی جائزہ لیں کہ کونسا مذہب در حقیقت عالمگیر اور آفاقی ہے۔اب ہم پھر ان مذاہب کے مسئلہ کی طرف آتے ہیں جنہوں نے عالمی غلبہ کے حصول کو اپنا صح نظر بنایا ہوا ہے اور یہ بات صاف ظاہر ہے کہ اسلام بھی یہ منزل حاصل کرنا چاہتا ہے۔قرآن کریم کی پیشگوئی کے مطابق یہ مقدر ہے کہ اسلام ایک دن بنی نوع انسان کا واحد مذہب بن کر ابھرے گا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُوْلَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْكَرِهَ الْمُشْرِكُونَ (سورۃ الصف آیت ۱۰) ترجمہ۔وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تا کہ وہ اسے دین (کے ہر شعبہ ) پر کلیۂ غالب کر دے خواہ مشرک برا منائیں۔اگر چہ اسلام مختلف مذاہب کے مابین صلح و آشتی کے فروغ پر غیر متزلزل یقین رکھتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اسلام مختلف مذاہب کے درمیان صحت مند مقابلہ کا قائل بھی ہے۔وہ اس بات کی حوصلہ شکنی نہیں کرتا کہ لوگ اپنے اپنے مذہب کے 35 55